365 دن (حصہ سوم) — Page 116
116 درس حدیث نمبروو حضرت عبادہ بن صامت جو مدینہ کے ان مسلمانوں میں سے تھے جنہوں نے ایک حج کے موقع پر مدینہ سے آکر مکہ کے ابتدائی ایام میں ایک گھاٹی میں حضور صلی ا یکم کی بیعت کی تھی اور ان کو بدر میں شمولیت کی سعادت بھی ملی تھی، وہ بیان کرتے ہیں: أَنَّ رَسُولَ الله صل الله قَالَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِّنْ أَصْحَابِهِ تَعَالَوْا بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تُسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ وَلَا تَأْتُونَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُوْنَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ ( بخاری کتاب المناقب باب وفود الأنصار الى النبي اللهم بمكة۔۔۔3892) رض اسی طرح حضرت عبادہ بن صامت نے بیان کیا: اِنِّي مِنَ النُّقَبَاءِ الَّذِيْنَ بَايَعُوا رَسُولَ الله الله وَقَالَ: بَايَعْنَاهُ عَلَى أَن لَّا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا نَزْنِي وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا نَنْتَهِبَ (مسلم کتاب الحدود باب كفارات لأهلها 4464) آج مغرب کی تمام پراپیگنڈا مشینری اور چرچ پر اپیگنڈے کے ہر طریق سے یہ بات پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ اسلام ایک ظلم اور جارحیت کا مذہب ہے اور نعوذ باللہ نعوذ باللہ رسول اللہ صلی الی یم نے اس لئے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ٹولہ بنا کر بے گناہوں پر حملہ کریں اور ان کا مال لوٹیں۔یہ الزام صریحاً ایک بہتان ہے۔سرسری نظر سے بھی قرآن اور حدیث پڑھنے والا اگر وہ دیانت دار ہے اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ معاملہ اس سے بالکل الٹ ہے۔حضرت عبادہ بن صامت جو مدینہ کے ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بہت ابتداء میں مکہ جاکر حضور صلی اللہ کریم نے ہاتھ پر بیعت کی تھی ان کے دو بیان آج کی احادیث میں لکھے گئے ہیں جو مغرب اور چرچ کے زہر یلے اور جھوٹ سے بھرے ہوئے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔حضرت عبادہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا جبکہ آپ کے گرد آپ کے صحابہ کی ایک جماعت تھی آؤ میری بیعت کرو اس شرط پر کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کوئی