365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 115 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 115

115 درس حدیث نمبر 98 حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ قریش اس بات سے فکر مند ہوئے کہ ان کے معزز قبیلہ بنو محزوم کی ایک عورت نے چوری کی اور اب اس کو سزا ملے گی۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ اس بارہ میں رسول اللہ صلی علیم کے بہت پیارے حضرت اسامہ بن زید ہی یہ جرات کر سکتے ہیں جب حضرت اسامہ نے آپ کی خدمت میں اس خاتون کی سفارش کی تو آپ نے فرمایا کیا تم اللہ کی مقرر کردہ حدود کے بارہ میں سفارش کرتے ہو ؟ پھر حضور کھڑے ہوئے اور آپ نے خطاب فرمایا اور اس میں فرمایا: اِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِيْنَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوْا إِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الشَّرِيْفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَ أَيْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ ابْنَةَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا کہ تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں ان کو صرف اس بات نے ہلاک کیا کہ جب ان میں سے کوئی معزز شخص چوری کرتا تو وہ اس کو کچھ نہ کہتے مگر جب کوئی کمزور چوری کر تا تو اس حد نافذ کرتے۔خدا کی قسم اگر محمد (سی ایم) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔( بخاری کتاب احادیث الا نبیاء باب حديث الغار 3475) اب اگر آپ اپنے ماحول میں نظر ڈال کر دیکھیں تو معاشرہ کا سب سے بڑا فتنہ یہی نظر آتا ہے۔بڑے لوگ بڑے سے بڑا جرم کرتے ہیں، چوریاں کرتے اور کرواتے ہیں، اغوا کرتے اور کرواتے ہیں مگر صاف بچ جاتے ہیں اور کمزور اور بے حیثیت لوگوں پر قانون کا سارا زور چلتا ہے اور یہ بات صرف افراد تک محدود نہیں، طاقتور ملک اور قومیں ہر قسم کے مظالم سے کام لیتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا جبکہ کمزور قومیں اور کمزور ملک بڑی طاقتوں کے ہتھیاروں کا نشانہ بنتی ہیں۔