365 دن (حصہ سوم) — Page 110
110 درس حدیث نمبر 93 حضرت ابو ہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی ا ولم نے فرمایا: كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ الْاِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَيُعِيْنُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَتِهِ فَيَحْمِلُ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَةَ صَدَقَةٌ وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلوةِ صَدَقَةٌ وَيُمِيْطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ (بخاری کتاب الجهاد والسير باب من اخذ بالركاب و نحوه2989) عام طور پر لوگوں میں صدقہ کا لفظ ان معنوں میں استعمال ہوتا ہے کہ کوئی شخص جو مال رکھتا ہے کسی غریب آدمی کو جو مال نہیں رکھتا بطور مدد کے کوئی رقم دے۔مگر یہ صدقہ کے لفظ کے محدود معنے ہیں۔احادیث میں یہ لفظ بہت سی نیکیوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔کہتے ہیں کہ صدقہ کا لفظ صدق سے نکلا ہے اور ہر بات جس کی سچائی پر بنیاد ہو ، صدقہ ہے۔بہر حال صدقہ کا لفظ مالی خدمت کے علاوہ اور بہت سے معنے پر بھی بولا جاتا ہے۔جو حدیث آج ہم نے پڑھی ہے وہ صدقہ کے دائرہ کو بہت وسیع کر دیتی ہے۔حضرت ابو ہریرة بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی علی کریم نے فرمایا:۔لوگوں کے ہر جوڑ پر صدقہ کی ذمہ واری ہے اور یہ ذمہ داری ہر اس دن میں ہے جس میں سورج چڑھتا ہو یعنی یہ ذمہ واری روزانہ ہے۔حضور صلی لی ایم نے فرمایا ایک شخص دو آدمیوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لیتا ہے یا عادلانہ فیصلہ کرتا ہے تو یہ بھی صدقہ ہے۔ایک شخص دوسرے کو جو سواری پر سوار ہو رہا ہے سوار ہونے میں مدد دیتا ہے یا اس کا سامان اٹھا کر اسے پکڑا تا ہے تو یہ بھی صدقہ ہے ایک شخص دوسرے سے خوشگوار اور پاکیزہ رنگ میں بات کرتا ہے تو یہ بھی صدقہ ہے ایک شخص نماز کو جانے کے لئے ہر قدم جو اٹھاتا ہے وہ ہر قدم صدقہ ہے ایک شخص سڑک پر سے گند ہٹا دیتا ہے تو یہ بھی صدقہ ہے۔ย