365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 7 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 7

درس القرآن 7 س القرآن نمبر 159 وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْيَتَى قُلْ إِصْلَاحَ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَ لَوْ شَاءَ اللهُ لَاعْنَتَكُمْ إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمُ (البقرة:221) جنگ کی اجازت اور دشمن کے جارحانہ حملہ کے دفاع کی فرضیت کے سلسلہ میں ایک اور سوال یہ اٹھتا تھا کہ یتامی کا مسئلہ پیدا ہو گا يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْيَتى وہ آپ سے یتامی کے متعلق پوچھیں گے ، فرماتا ہے قُلْ إِصْلَاح لَّهُمْ خَیر کہو ان کی اصلاح اور ترقی کو مد نظر رکھنا بڑا اچھا کام ہے، مراد یہ ہے کہ یتامی کے نقطہ نظر کے فائدہ کے مد نظر بھی یہ بہترین کام ہے بلکہ معاشرہ کی اصلاح کے لئے بھی یہ ضروری ہے کیونکہ قربانی کرنے والوں کو جو جان دیتے ہیں یہ تسلی رہے گی کہ ان کی جانی قربانی کی صورت میں ان کی یتیم اولاد بے سہارا نہیں رہے گی۔ย حضرت مصلح موعود تحریر فرماتے ہیں:۔رسول کریم ملی ای ظلم کے زمانے کا واقعہ ہے ایک بچہ یتیم رہ گیا۔تو بعض صحابہ میں آپس میں لڑائی شروع ہو گئی ایک کہتا میں اس کی پرورش کروں گا۔دوسرا کہتا میں اس کی پرورش کروں گا۔آخر رسول کریم صلی علی کلم کے پاس یہ معاملہ پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ بچہ سامنے کرو۔اور وہ جس کو پسند کرے اس کے سپر د کر دو۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 497 مطبوعہ ربوہ) پھر فرماتا ہے وَ اِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ کہ اگر تم ان کو اپنے ساتھ ملالو اپنے کنبہ کا اپنے معاشرہ کا اپنے ماحول کا حصہ بنا کر رکھو تو یاد رکھو کہ وہ تمہارے بھائی ہیں جس طرح باپ کی غیر موجودگی میں بڑے بھائی کا مشفقانہ طرز عمل چھوٹے بھائیوں سے ہوتا ہے وہ تمہیں اختیار کرنا چاہیئے۔وَاللهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ مگر یہ یاد رکھو کہ اللہ فساد کرنے والوں کو اصلاح کرنے والے کے مقابلہ میں خوب جانتا ہے۔وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَاعْنَتَكُم دوسروں کی مصیبت میں ان کی ہمدردی کرو۔اگر اللہ چاہتا تو تمہیں بھی تو مشقت میں ڈال دیتا إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمُ الله یقیناً غالب اور حکمت والا ہے۔اس لئے اگر یتیم اپنی کمزوری کی وجہ سے اپنا حق نہیں لے سکتا۔تو یاد رکھو کہ اللہ کمزور نہیں اگر یتیم اپنی ناعمری کی وجہ سے مسائل کو نہیں سمجھتا تو اللہ تعالیٰ تو حکیم ہے، یتیم کی کفالت کے وقت اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کو مد نظر رکھو۔