365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 95 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 95

95 درس حدیث نمبر 79 الله حضرت کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن حدرد سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا اور دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں حتی کہ حضور صلی الی یکم نے بھی اپنے گھر میں یہ آوازیں سن لیں۔آپ نے اپنے حجرہ کا پردہ ہٹایا اور آواز دی یا کعب۔کعب نے کہا لبیک یار سول اللہ آپ نے فرما یا ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هذا کہ اپنے قرض میں سے اتنا چھوڑ دو اور آپ نے اشارہ سے نصف فرمایا کعب نے عرض کیا یارسول اللہ میں ایسا کرتا ہوں اس پر حضور صلی الی ایم نے ابن ابی حد ر ڈ کو فرمایا قُمْ فَاقْضم جاؤ اور قرض ادا کرو۔(بخاری کتاب الصلوۃ باب التقاضى والملازمة في المسجد457) اس حدیث میں حضور صلی ال کلیم نے معاشرہ کی ایک تکلیف دہ کمزوری کا سد باب فرمایا ہے۔لوگ اپنی ضروریات کے لئے دوسروں سے قرض لیتے ہیں اور بعض جن کو توفیق ہوتی ہے قرض دیتے ہیں۔جب قرض کی واپسی کی مقررہ مدت آتی ہے تو بعض دفعہ مقروض اپنی مجبوری کی وجہ سے یا بعض دفعہ تساہل کی وجہ سے قرض کی واپسی میں تاخیر کرتا ہے۔دوسری طرف یہ بھی ہوتا ہے کہ قرض دینے والا اپنے قرض کی واپسی کے لئے ناجائز سختی کرتا ہے یا مقروض کی مجبوری کو جانتے ہوئے بھی تلخی سے کام لیتا ہے حالانکہ اس کو اللہ نے کشائش دی ہوتی ہے اور اگر اس کو فوری طور پر اپنی رقم واپس نہ ملے تو اس کا کوئی حقیقی ہرج نہیں ہو تا۔جو واقعہ اوپر بیان ہوا ہے اس میں دونوں فریق کے لئے نصیحت کا سامان موجود ہے۔قرض دینے والا اگر مقروض کو وقت کے لحاظ سے یار قسم کے لحاظ سے کچھ سہولت دیتا ہے تو یہ اس کے لئے باعث ثواب ہے اور اگر مقروض وقت پر لیا ہوا قرض واپس دینے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اس کا فرض ہے جس کی ادائیگی اس کے لئے اجر کا باعث ہے۔