365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 5 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 5

درس القرآن 5 درس القرآن نمبر 158 اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَبِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللهُ غَفْو محدو غفور رحيم (البقرة:219) بندوں کے حقوق کے سلسلہ میں اس سوال کو حل کیا گیا تھا کہ اگر اسلام بندوں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین فرماتا ہے اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی کو اللہ کے حقوق کی ادائیگی کی طرح ضروری سمجھتا ہے تو پھر قتال کی کیوں اجازت دیتا ہے۔گزشتہ دو آیات میں وضاحت کردی کہ مسلمانوں کو قتال کی اجازت اس بناء پر ہے کہ دشمن جارحانہ حملوں کے ذریعہ مسلمانوں کو اسلام سے مرتد کرنے کی پوری کوشش میں ہے۔مسلمانوں کی جنگ صرف دفاعی ہے اس آیت میں فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطنوں سے یا نفس پرستیوں سے جدائی اختیار کی (یعنی خدا کے لئے وطن بھی چھوڑا اور کسی نفسانی غرض کے سے کسی غنیمت کی خاطر جنگ نہیں کرتے) بلکہ ایمان لانے کی وجہ سے ان پر جنگ ٹھونسی جاتی ہے اور وہ اپنے وطن کو چھوڑ کر چلے بھی گئے پھر بھی دشمن ان کا تعاقب کرتا ہے وَجْهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اور ان کا جہاد خدا کی راہ میں ہے، مال و اسباب کے لئے نہیں، ملک فتح کرنے کے لئے نہیں، اوليك يَرْجُونَ رَحْمَتَ الله وہ خدا کی رحیمیت کے امیدوار ہیں واللهُ غَفُورٌ رَّحِیم اور اللہ بہت بخشنے والا، بار بار رحم کرنے والا ہے۔حقوق انسانی کے سلسلہ میں تعلیم کے بارہ میں اوپر کی وضاحت کے بعد کہ جنگ کا استعمال ہر حالت میں حقوق انسانی کی ادائیگی کے خلاف نہیں۔بے شک جنگ حقوق انسانی کی ادائیگی میں روک بنتی ہے مگر دفاعی جنگ حقوق انسانی کے قائم کرنے کا ذریعہ بھی ہے اس ضمن میں پھر یہ سوال پیدا ہو تا تھا کہ اگر دفاعی جنگ جائز ہے مجبوری کی وجہ سے تو دو چیز میں جو اس کے ساتھ وابستہ ہیں یعنی شراب اور جوا کیا وہ بھی جائز ہیں یا نہیں، فرماتا ہے يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا الهُ كَبِيرُ وَ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ کہ پھر وہ لازماً شراب اور میسر کے بارہ میں پوچھیں گے تم جواب دو کہ ان دونوں چیزوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے کچھ