365 دن (حصہ سوم) — Page 67
درس القرآن درس القرآن نمبر 211 إِنَّ اللهَ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ کہ اللہ سے ہر گز کوئی چیز مخفی نہیں نہ زمین میں ، نہ آسمان میں۔(آل عمران:6) 67 حضرت مصلح موعود اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات تو ایسی ہے کہ سب چیزیں اس کے سامنے ہیں۔خواہ وہ آسمانوں میں ہوں یا زمین میں اس سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں لیکن یسوع مسیح کی تو یہ حالت تھی کہ اسے بھوک لگی تو وہ انجیر کے ایک درخت کو دیکھ کر اس کی طرف گیا۔مگر پتوں کے سوا اسے اس میں کچھ دکھائی نہ دیا۔لا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٍ کہہ کر اس امر کی طرف بھی اشارہ فرمایا کہ تمہیں تو اسلام کی ترقی کا آج کوئی سامان نظر نہیں آتا۔تم حیران ہوتے ہو کہ یہ بے کس اور یتیم کیسے کامیاب ہو جائے گا مگر آسمانی اور زمینی کامیابیوں کی کنجی سب خدا کے ہاتھ میں ہے۔آخر یہ مخفی اسباب اسلام کی ترقی کا موجب ہو جائیں گے۔چنانچہ اسی لئے اللہ تعالیٰ آگے جنین ( پیٹ میں بچہ۔ناقل) کی مثال دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ بچہ کی پیدائش پر غور کرو۔وہ کیسے اند ھیروں میں ہوتا ہے اور پھر ایک دن کیسا شاندار نتیجہ رو نما ہوتا ہے۔“ نوٹس غیر مطبوعہ حضرت مصلح موعود زیر آیت آل عمران آیت نمبر 6 رجسٹر نمبر 9 صفحہ 53،54) فرماتا ہے هُوَ الَّذِي يُصَوِرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (آل عمران : 7) ترجمه از تفسیر صغیر : وہی ہے جو رحموں میں جیسی چاہتا ہے تمہیں صورت دیتا ہے۔اس کے سوا کوئی پرستش کا مستحق نہیں۔وہ غالب (اور) حکمت والا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔" يُصَورُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ میں بتایا کہ انسان کے اخلاق و عادات پر رحم مادر سے ہی اثر پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔اس لئے جو شخص ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا وہ اخلاق و عادات اور اطوار و خصائل کے لحاظ سے بنی نوع انسان سے جدا نہیں ہو سکتا کجا یہ کہ اسے خدائے واحد اور ذوالجلال