365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 44 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 44

درس القرآن 44 درس القرآن نمبر 190 مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ (البقرة:262) سُنبُلَةٍ مَائَةُ حَبَّةٍ وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ تزکیہ یعنی الہی جماعتوں کا نشو و نما ایک لطیف مثال سے اس آیت میں مذکور ہے کہ ایک دانہ سے سو (100) دانہ نکل آتے ہیں اور یہ مثال ان لوگوں کی قربانیوں کی ہے جو مالی قربانیاں خدا کی راہ میں کرتے ہیں گویا تزکیہ کے دو پہلوؤں کو بڑی لطافت سے بیان کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔”یعنی خدا کی راہ میں جو لوگ مال خرچ کرتے ہیں اُن کے مالوں میں خدا اس طرح برکت دیتا ہے کہ جیسے ایک دانہ جب بویا جاتا ہے تو گو وہ ایک ہی ہوتا ہے مگر خدا اس میں سے سات (7) خوشے نکال سکتا ہے اور ہر ایک خوشہ میں سو 100 دانے پیدا کر سکتا ہے یعنی اصل چیز سے زیادہ کر دینا یہ خدا کی قدرت میں داخل ہے۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 170) اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کے اس فعل کی حالت اس دانہ کی حالت کے مشابہہ ہے جو سات بالیں اگائے اور ہر بالی میں سو (100) دانہ ہو اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے اس سے بھی بڑھا بڑھا کر دیتا ہے اور اللہ وسعت دینے والا اور بہت جاننے والا ہے۔مگر اس عظیم الشان انعام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایک کڑی شرط بھی رکھی ہے ، فرماتا ہے الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنَّا وَ لَا أَذًى پھر خرچ کرنے کے بعد نہ کسی رنگ میں احسان جتاتے ہیں اور نہ کسی قسم کی تکلیف دیتے ہیں لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ ان کے رب کے پاس ان کے اعمال کا بدلہ محفوظ ہے وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ اور نہ تو انہیں کسی قسم کا خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(البقرة: 263)