365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 43 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 43

درس القرآن 43 درس القرآن نمبر 189 تزکیہ یعنی الہی جماعتوں کی نشو و نما اور عددی ترقی کے راستہ میں شدید مشکلات سے جو مایوسی پیدا ہو سکتی ہے اس کو روکنے کے لئے تیسر اواقعہ جو سورۃ البقرۃ کے اس حصہ میں بیان کیا گیا ہے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے دور میں بھی اور بطور نبیوں کے باپ کے آئندہ ادوار میں جو ہمارے نبی صلی الی نیلم کے دور پر منتج ہو تا تھا۔منکرین اور مخالفین کے انکار کے احساس کی بناء پر حضرت ابراہیم نے یہ عرض کی کہ یہ مردے کس طرح زندہ ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔کیا تمہیں اللہ تعالیٰ کی پیش خبریوں پر ایمان نہیں؟ انہوں نے عرض کیا ایمان تو یقیناً ہے یہ درخواست صرف اطمینان قلب کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا چار پرندوں کو اپنے ساتھ ہلا لو۔پھر ایک ایک پرندہ چاروں طرف پہاڑوں میں چھوڑ دو۔پھر ان کو آواز دے کر بلاؤ تو وہ واپس تمہارے پاس تیزی سے آجائیں گے۔یہی حال ان انسانی روحوں کا ہے جو خواہ کتنی مخالفت کریں ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت کا سایہ ہے اس لئے یہ لوگ آئیں گے۔مایوسی کی کوئی بات نہیں، فرماتا ہے :۔اور جب ابراہیم نے کہا اے ہمارے رب مجھے دکھلا کہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے اس نے کہا کیا تو ایمان نہیں لا چکا؟ اس نے کہا کیوں نہیں۔مگر اس لئے پوچھا ہے کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔اس نے کہا تو چار پرندے پکڑ لے اور انہیں اپنے ساتھ مانوس کرلے پھر ان میں سے ہر ایک کو ہر پہاڑ پر چھوڑ دے۔پھر انہیں بلا۔وہ جلدی کرتے ہوئے تیری طرف چلے آئیں گے اور جان لے کہ اللہ کامل غلبہ والا اور بہت حکمت والا ہے۔(البقرة:261)