365 دن (حصہ سوم) — Page 39
درس القرآن 39 درس القرآن نمبر 185 لا إكراه في الدِّينِ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرُوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقرة: 257) تزکیہ کا مضمون جاری ہے اس آیت سے دو باتوں کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ دین کا مقصد تزکیہ ہے۔تزکیہ کی دو قسمیں ہیں ایک نفس اور دل کی گہری پاکیزگی اور ظاہر ہے کہ جو دین خلاف مرضی جبر کر کے اختیار کرایا جائے اس سے دل کی پاکیزگی محال ہے وہ تو صرف ایک زبان سے جھوٹا اقرار ہے نہ ہی تزکیہ یعنی نشو و نما اور ترقی جبر سے حاصل ہو سکتے ہیں وہ تو صرف ایک انبوہ ہے، ایک ہجوم ہے ، نہ ماننے والوں کی ایک جماعت، جو مذہب کی طرف منسوب ہے۔فرماتا ہے، لا اکراہ فی الاین دین میں کوئی ہر گز کوئی جبر نہیں اور جبر کی ضرورت بھی کیا ہے ؟ جبر کی ضرورت تو تب ہو جب کوئی ایسی تعلیم دی جارہی ہو جو خلاف عقل ہو ، خلاف فطرت انسانی ہو ، کسی کے حقوق پر اس سے زد آتی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔”دین میں کوئی جبر نہیں ہے تحقیق ہدایت اور گمراہی میں کھلا کھلا فرق ظاہر ہو گیا ہے پھر جبر کی کیا حاجت ہے۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 232) فرماتے ہیں:۔یہ بات نہایت صاف اور سریع الفہم ہے کہ وہ کتاب جو حقیقت میں کتاب الہی ہے وہ انسانوں کی طبیعتوں پر کوئی ایسا بوجھ نہیں ڈالتی اور ایسے امور مخالف عقل پیش نہیں کرتی جن کا قبول کرنا اکراہ اور جبر میں داخل ہو۔“ ( نور القرآن نمبر 1 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 231،232) فرماتے ہیں:۔” قرآن شریف نے ہر گز جبر کی تعلیم نہیں دی۔اگر جبر کی تعلیم ہوتی تو ہمارے نبی صلی الی یوم کے اصحاب جبر کی تعلیم کی وجہ سے اس لائق نہ ہوتے کہ امتحانوں کے موقع پر سچے ایمانداروں کی طرح صدق دکھلا سکتے۔“ (مسیح ہندوستان میں روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 12) فرماتا ہے قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَی یقیناً ہدایت گمراہی سے کھل کر کہ نمایاں ہو چکی ہے فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ جو حق و صداقت اور عدل و انصاف کے تقاضا سے باہر نکلنے والے وجو دوں کا انکار کرتا ہے اس نے ایک مضبوط کڑے کو پکڑ لیا جس کا ٹوٹنا ممکن نہیں اور اللہ بہت سننے والا، دائمی علم رکھنے والا ہے۔