365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 187 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 187

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 112 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔187 تو به حقیقت میں ایک ایسی شئے ہے کہ جب وہ اپنے حقیقی لوازمات کے ساتھ کی جاوے تو اس کیساتھ ہی انسان کے اندر ایک پاکیزگی کا بیج بویا جاتا ہے جو اس کو نیکیوں کا وارث بنا دیتا ہے یہی باعث ہے۔جو آنحضرت صلی للی ایم نے بھی فرمایا ہے کہ گناہوں سے تو بہ کرنے والا ایسا ہوتا ہے کہ گویا اس نے کوئی گناہ نہیں کیا یعنی تو بہ سے پہلے کے گناہ اس کے معاف ہو جاتے ہیں اس وقت سے پہلے جو کچھ بھی اس کے حالات تھے اور جو بیجا حرکات اور بے اعتدالیاں اس کے چال چلن میں پائی جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو معاف کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک عہد صلح باندھا جاتا ہے اور نیا حساب شروع ہو تا ہے پس اگر اس نے خدا تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ کی ہے تو اسے چاہیئے کہ اب اپنے گناہوں کا نیا حساب نہ ڈالے اور پھر اپنے آپ کو گناہ کی ناپاکی سے آلودہ نہ کرے بلکہ ہمیشہ استغفار اور دعاؤں کے ساتھ اپنی طہارت اور صفائی کی طرف متوجہ رہے اور خد اتعالیٰ کو راضی اور خوش کرنے کی فکر میں لگار ہے اور اپنی اس زندگی کے حالات پر نادم اور شر مسار رہے جو تو بہ کے زمانہ سے پہلے گذری ہے۔انسان کی عمر کے کئی حصے ہوتے ہیں اور ہر ایک حصہ میں کئی قسم کے گناہ ہوتے ہیں مثلاً ایک حصہ جوانی کا ہوتا ہے جس میں اس کے حسب حال جذبات کسل و غفلت ہوتی ہے پھر دوسری عمر کا ایک حصہ ہوتا ہے جس میں دغا، فریب، ریاکاری اور مختلف قسم کے گناہ ہوتے ہیں غرض عمر کا ہر ایک حصہ اپنی طرز کے گناہ رکھتا ہے۔پس یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور وہ تو بہ کرنے والے کے گناہ بخش دیتا ہے اور تو بہ کے ذریعہ انسان پھر اپنے رب سے صلح کر سکتا ہے۔دیکھو انسان پر جب کوئی جرم ثابت ہو جائے تو وہ قابل سزا ٹھہر جاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ ( 2 : 75) یعنی جو اپنے رب کے حضور مجرم ہو کر آتا ہے اس کی سزا جہنم ہے وہاں وہ نہ جیتا ہے نہ مرتا ہے یہ ایک جرم کی سزا ہے اور جو ہزاروں