365 دن (حصہ سوم) — Page 186
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 111 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔وو 186 یہ چند روزہ دنیا تو ہر حال میں گزر جاوے گی خواہ تنگی میں گزرے خواہ فراخی میں۔مگر آخرت کا معاملہ بڑا سخت معاملہ ہے وہ ہمیشہ کا مقام ہے اور اس کا انقطاع نہیں ہے پس اگر اس مقام میں وہ اسی حالت میں گیا کہ خدا تعالیٰ سے اس نے صفائی کر لی تھی اور اللہ تعالیٰ کا خوف اس کے دل پر مستولی تھا اور وہ معصیت سے تو بہ کر کے ہر ایک گناہ سے جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہ کر کے پکارا ہے بچتا رہا تو خدا تعالیٰ کا فضل اس کی دستگیری کرے گا اور وہ اس مقام پر ہو گا کہ خدا اس سے راضی ہو گا۔اور وہ اپنے رب سے راضی ہو گا۔اور اگر ایسا نہیں کیا بلکہ لا پرواہی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی ہے تو پھر اس کا انجام خطر ناک ہے اس لیے بیعت کرتے وقت یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ بیعت کی کیا غرض ہے اور اس سے کیا فائدہ حاصل ہو گا اگر محض دنیا کی خاطر ہے تو بے فائدہ ہے لیکن اگر دین کے لیے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہے تو ایسی بیعت مبارک اور اپنی اصل غرض اور مقصد کو ساتھ رکھنے والی ہے جس سے ان فوائد اور منافع کی پوری امید کی جاتی ہے جو سچی بیعت سے حاصل ہوتے ہیں۔مشکل الفاظ اور ان کے معانی 66 ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 432 مطبوعہ ربوہ) فراخی خوشحالی، آسودگی انقطاع کٹنا، الگ ہونا مستولی غالب، چھا جانے والا