365 دن (حصہ سوم) — Page 160
درس روحانی خزائن 160 درس روحانی خزائن نمبر 93 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔تزکیہ نفس کی حقیقت: سویا د رکھو کہ ایک مسلمان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے کے واسطے ہمہ تن تیار رہنا چاہیے اور جیسے زبان سے خدا تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات میں وحدہ لا شریک سمجھتا ہے ایسے ہی عملی طور پر اس کو دکھانا چاہئیے اور اس کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور ملائمت سے پیش آنا چاہیے اور اپنے بھائیوں سے کسی قسم کا بھی بغض، حسد اور کینہ نہیں رکھنا چاہئیے اور دوسروں کی غیبت کرنے سے بالکل الگ ہو جانا چاہیئے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ معاملہ تو ابھی دور ہے کہ تم لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسے از خود رفتہ اور محو ہو جاؤ کہ بس اُسی کے ہو جاؤ اور جیسے زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو عمل سے بھی کر کے دکھاؤ۔ابھی تو تم لوگ مخلوق کے حقوق کو بھی کما حقہ ادا نہیں کرتے بہت سے ایسے ہیں جو آپس میں فساد اور دشمنی رکھتے ہیں اور اپنے سے کمزور اور غریب شخصوں کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں اور بد سلوکی سے پیش آتے ہیں اور ایک دوسرے کی غیبتیں کرتے اور اپنے دلوں میں بغض اور کینہ رکھتے ہیں۔لیکن خدا تعالی فرماتا ہے کہ تم آپس میں ایک وجود کی طرح بن جاؤ۔اور جب تم ایک وجود کی طرح ہو جاؤ گے اس وقت کہہ سکیں گے کہ اب تم نے اپنے نفسوں کا تزکیہ کر لیا۔کیونکہ جب تک تمہارا آپس میں معاملہ صاف نہیں ہو گا اس وقت تک خدا تعالیٰ سے بھی معاملہ صاف نہیں ہو سکتا۔گو ان دو قسم کے حقوق میں بڑا حق خدا تعالیٰ کا ہے مگر اس کی مخلوق کے ساتھ معاملہ کرنا یہ بطور آئینہ کے ہے۔جو اپنے شخص اپنے بھائیوں سے صاف صاف معاملہ نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کے حقوق بھی ادا نہیں کر سکتا۔“ مشکل الفاظ اور ان کے معانی ہمہ تن ہر وقت ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 408،407 مطبوعہ ربوہ) ملائمت نرمی، شفقت غیبت کسی کی غیر موجودگی میں اس کا ذکر جسے وہ ناپسند کرتا ہو از خود رفته عاشق، قربان ، دیوانه