365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 145 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 145

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 84 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔145 قبولیت دعا کا فلسفہ: دعا بڑی چیز ہے! افسوس لوگ نہیں سمجھتے کہ وہ کیا ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر دعا جس طر ز اور حالت پر مانگی جاوے، ضرور قبول ہو جانی چاہیے۔اس لئے جب وہ کوئی دعامانگتے ہیں اور پھر وہ اپنے دل میں جمائی ہوئی صورت کے مطابق اس کو پورا ہوتا نہیں دیکھتے، تو مایوس اور نا امید ہو کر اللہ تعالیٰ پر بدظن ہو جاتے ہیں۔حالانکہ مومن کی یہ شان ہونی چاہیے کہ اگر بظاہر اسے اپنی دعا میں مراد حاصل نہ ہو ، تب بھی نا امید نہ ہو۔کیونکہ رحمت الہی نے اس دعا کو اس کے حق میں مفید نہیں قرار دیا۔دیکھو اگر بچہ ایک آگ کے انگارے کو پکڑنا چاہے تو ماں دوڑ کر اس کو پکڑلے گی۔بلکہ اگر بچہ کی اس نادانی پر ایک تھپڑ بھی لگا دے، تو کوئی تعجب نہیں۔اسی طرح تو مجھے ایک لذت اور سرور آجاتا ہے۔جب میں اس فلسفہ دعا پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ علیم اور خبیر خدا جانتا ہے کہ کونسی دعا مفید ہے۔آداب دعا: مجھے بار ہا افسوس آتا ہے۔جب لوگ دعا کے لئے خطوط بھیجتے ہیں۔اور ساتھ ہی لکھ دیتے ہیں کہ اگر ہمارے لئے یہ دعا قبول نہ ہوئی تو ہم جھوٹا سمجھ لیں گے۔آہ! یہ لوگ آداب دعا سے کیسے بے خبر ہیں۔نہیں جانتے کہ دعا کرنے والے اور کرانے والے کے لئے کیسی شرائط ہیں۔اس سے پہلے کہ دعا کی جاوے یہ بد ظنی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے ماننے کا احسان جتانا چاہتے ہیں اور نہ ماننے اور تکذیب کی دھمکی دیتے ہیں۔ایسا خط پڑھ کر مجھے بد بو آجاتی ہے اور مجھے خیال آجاتا ہے کہ اس سے بہتر تھا کہ یہ دعا کے لئے خط ہی نہ لکھتا۔میں نے کئی بار اس مسئلہ کو بیان کیا ہے اور پھر مختصر طور پر سمجھاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے دوستانہ معاملہ کرنا چاہتا ہے۔دوستوں میں ایک سلسلہ تبادلہ کا رہتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں میں بھی اسی رنگ کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبادلہ یہ ہے کہ جیسے وہ اپنے بندے کی ہزار ہا دعاؤں کو سنتا اور مانتا ہے۔اس کے عیبوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔باوجود یکہ وہ ایک ذلیل سے ذلیل ہستی