365 دن (حصہ دوم) — Page 65
درس القرآن 65 درس القرآن نمبر 127 شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِي اُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَةٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُبُهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أَخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدْ لَكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (البقرة:186) جیسا کہ کل کے درس میں بیان ہوا تھا سورۃ البقرۃ کے اس حصہ احکام قرآنیہ اور ان کی حکمتیں بیان ہیں، پچھلی آیت میں روزوں کا حکم تھا اس آیت میں روزوں کی حکمت بیان ہے کہ یہ روزے رمضان میں اس سب سے بڑے انعام کے شکرانہ کے طور پر ہیں جو انعام انسانیت پر رمضان کے مہینہ میں نازل ہوا تھا۔بعض قرآن کا ہمارے نبی صلی الی کم پر نزول جس کتاب میں ہدایت بھی ہے، ہدایت کی تفاصیل اور دلائل بھی ہیں اور پرانے بگڑے ہوئے مذاہب کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُه پس جو تم میں سے اس مہینہ کو پائے اسے چاہیے کہ وہ اس میں روزہ رکھے کیونکہ اس مہینہ کا قرآن کے نزول سے گہرا تعلق ہے۔لیکن اگر مَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ جو رمضان میں بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے کیونکہ اللہ کا مقصد تمہیں دکھ دینا نہیں يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ مقصد روزوں کا اذیت دینا نہیں اور بیماری اور سفر کی صورت میں پابندی بھی اس لئے بتائی گئی ہے کہ تمہیں سہولت ہو وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وہ تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ رمضان میں سفر یا بیماری کی وجہ سے روزے نہ رکھو تو دوسرے ایام میں رکھ کر گنتی پوری کر لو یعنی جس حد تک حکم کی تعمیل کر سکتے ہو کرو۔اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہدایت کے لئے قرآن جیسی کتاب رسول اللہ صلی علی یکم جیسے رسول پر نازل کی ہے تمہاری ہدایت کے لئے کتنا بڑا سامان کیا ہے اس لئے لِتُكَبّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدكُمْ تمہارا بھی فرض ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہدات کے لئے اتنا بڑا احسان کیا ہے تم بھی اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اظہار کر و اور اس احسان کی جو تم پر ہوا ہے لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ تم خدا تعالیٰ کا شکر اور اس کے احسان کی قدر دانی کرو۔