365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 58 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 58

درس القرآن 58 درس القرآن نمبر 123 تَتَّقُونَ ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ (البقرة:184) جیسا کہ گزشتہ درسوں میں وضاحت کی گئی ہے سورۃ البقرۃ کے اس حصہ میں ابراہیمی دعا کے مطابق تعلیم کتاب اور حکمت کا مضمون جاری ہے پہلے تین ذرائع کا ذکر ہے جو انسانی جان کی حفاظت کرتے ہیں اب رمضان کے روزوں کا ذکر ہے۔یہاں سوال پید اہوتا ہے کہ رمضان کے روزوں سے پہلے نماز اور زکوۃ کا ذکر کیوں نہیں؟ یہاں ان دونوں کا ذکر نہ کرنا بھی قرآن مجید کی لطیف حکمت بتاتا ہے۔نماز اور زکوۃ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ رمضان اور حج ان کے مقابلہ میں ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اور لئے سورۃ البقرۃ کے شروع میں ہی پہلے ایمان کا ذکر ہے جو دین میں بنیادی مقام رکھتا ہے اور پھر اس کی دو شاخوں یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کا ذکر ہے جیسا کہ فرمایا الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنفِقُونَ (البقرة:4) کہ متقی جو قرآن کو مانتے ہیں ان کی بنیادی صفات تین ہیں ایمان، اقامت صلوۃ اور جو اللہ نے دیا ہے اس کو مخلوق کی بہبودی کے لئے خرچ کرنا۔پس نماز جو اللہ کے حقوق کی ادا ئیگی میں سر فہرست ہے اور اللہ کا دیا ہو ا خرچ کرنا جو بندوں کی بھلائی کے لئے سر فہرست ہے سے تو وہ قرآن کے ماننے والے کی زندگی کی ابتدا ہوتی ہے رمضان کے روزے اور حج وغیرہ نماز اور بندوں کی بھلائی کے مقابلہ میں دوسرا درجہ رکھتے ہیں۔نماز اور بندوں کی بھلائی بہر حال ہر شخص پر فرض ہے جبکہ رمضان کے روزے اور حج صرف طاقت رکھنے والوں پر لازمی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔“ تیسری بات جو اسلام کا رکن ہے وہ روزہ ہے۔روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا نہیں اور جس عالم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسار ہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم