365 دن (حصہ دوم) — Page 56
درس القرآن 56 درس القرآن نمبر 122 كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِلُونَهُ إِنَّ اللهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصِ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ ود و دو عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (البقرة:181تا183) عبادات اور شرعی قوانین و احکامات کے بارہ میں تفصیلی احکامات کے بیان سے پہلے انسانی جان کی حفاظت کے لئے یہاں تیسری ہدایت دی گئی ہے۔پہلی ہدایت حلال اور طیب کھانے پینے کے بارہ میں تھی۔دوسری ہدایت قصاص کے نظام کے بارہ میں تھی جو انسانی جان کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔تیسری ہدایت آج کی آیات میں اس مالی نظام سے ہے جو فوت ہونے والوں کے مال، مکان، جائیداد سے زندہ رہنے والے مستفیض ہو رہے ہوتے ہیں۔اس بارہ میں ہدایت ہے کہ مرنے والا موت سے پیشتر اپنی اولاد کو یہ تاکیدی ہدایت دے جائے کہ والدین اور دوسرے رشتہ دار اس کے مال سے خیر حاصل کر رہے تھے وہ معروف کے مطابق فائدہ اٹھاتے رہیں۔یہ متقی لوگوں پر ایک ذمہ داری ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان آیات کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جس وقت تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاوے تو اگر اُس نے کچھ مال چھوڑا ہے تو چاہئے کہ ماں باپ کے لئے اس مال میں سے کچھ وصیت کرے ایسا ہی خویشوں کے لئے بھی معروف طور پر جو شرع اور عقل کے رُو سے پسندیدہ ہے اور مستحسن سمجھا جاتا ہے وصیت کرنی چاہئے یہ خدا نے پر ہیز گاروں کے ذمہ ایک حق ٹھہر ادیا ہے جس کو بہر حال ادا کرنا چاہئے یعنی خدا نے سب حقوق پر وصیت کو مقدم رکھا ہے اور سب سے پہلے مرنے والے کے لئے یہی حکم دیا ہے کہ وہ وصیت لکھے۔اور پھر فرمایا کہ جو شخص سننے کے بعد وصیت کو بدل ڈالے تو یہ گناہ اُن لوگوں پر ہے جو جرم تبدیل وصیت کے عمد أمر تکب ہوں۔