365 دن (حصہ دوم) — Page 54
درس القرآن 54 درس القرآن نمبر 120 يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُ بِالْحُرِ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ والأنثى بِالْأُنثى فَمَنْ عُفِى لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٍ فَاتِبَاعُ بِالْمَعْرُوفِ وَ أَدَاءِ إِلَيْهِ بِإِحْسَانِ ذلِكَ تَخْفِيفَ مِنْ رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابُ الِيمُ (البقرة:179) جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے سورۃ البقرۃ کے اس حصہ میں ہمارے نبی صلی ایم کے عظیم کاموں میں سے دوسرے اور تیسرے کام کا بیان ہے یعنی تعلیم کتاب اور حکمت۔قوانین اور احکام کا بیان اور ان کی حکمتوں کا بیان اور اس کی ابتدا آيت كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَللًا طيبا (البقرة: 169) سے ہوئی ہے کیونکہ تمام احکام و قوانین پر عمل زندگی کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے اور زندہ رہنے کے لئے پہلی اور بنیادی چیز کھانا پینا ہے اس کے بعد زندہ رہنے کے لئے جان کے تحفظ کا انتظام ضروری ہے اور جان کا تحفظ نہیں ہو سکتا اگر قصاص کا نظام نہ ہو اگر قصاص کا نظام نہ ہو تو معاشرہ میں انسانی زندگی کی حفاظت کا تسلی بخش انتظام نہیں ہو سکے گا۔اگر قاتل کو اپنے قتل کئے جانے کا ڈر نہ ہو تو وہ بے تکلف دوسروں پر حملہ کرتارہے گا۔مگر ساتھ ہی اس آیت میں قصاص کے نظام کو کچھ حدود کے ساتھ باندھا گیا ہے۔پہلی بات تو لفظ قصاص میں ہی پائی جاتی ہے کہ کھوج اور تفتیش کے بعد قصاص نافذ ہونا چاہیئے۔دوسری بات یہ ہے کہ انسان قصاص کے معاملہ میں برابر ہیں۔کسی قبیلہ یا قوم یا رنگ والے کا یہ کہنا کہ ہمارا غلام تمہارے آزاد سے بڑھ کر ہے یا ہماری عورت تمہارے مرد سے بڑھ کر ہے اس لئے اس سے قصاص نہیں لیا جاسکتا، بالکل غلط ہے۔تیسری بات یہ بیان کی گئی ہے کہ انسانی اخوت کے نتیجہ میں اگر کسی مقتول کے وارث قاتل کو معاف کر دیتے ہیں اور دیت پر راضی ہو جاتے ہیں تو قتل کرنے والوں کو معروف طریق کی پیروی کرتے ہوئے اور نیک طور سے اس کی ادائیگی ہونا چاہیے۔یہ تمہارے رب کی طرف سے رعایت اور رحمت ہے۔پس جو اس کے بعد بھی زیادتی کرے تو اس کے لئے درد ناک عذاب مقدر ہے۔