365 دن (حصہ دوم) — Page 31
درس القرآن 31 درس القرآن نمبر 103 وَلِكُلّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ اَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللهُ جَمِيعًا إِنَّ (البقرة:149) اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ظاہری قبلہ کی تبدیلی کے حکم کے بعد اب اس آیت میں ، اس سلسلہ میں، اللہ تعالیٰ ایک نہایت اہم اور بنیادی بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ محض ظاہری رخ بدلنا کافی نہیں، صرف ایک عمارت کی طرف منہ کر لینا فائدہ مند نہیں جب تک وَلِحْلٌ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ کہ ہر انسان، ہر قوم ، ہر ملک کا کوئی مطمح نظر ہو تا ہے، کوئی مقصد ہوتا ہے۔جس کو انہوں نے اپنے سامنے رکھا ہوتا ہے۔اور اس کے لئے وہ کوشش اور جدوجہد کرتے ہیں، کسی نے تجارت کو ، کسی نے زراعت کو ، کسی نے حکومت کو ، کسی نے عیش و عشرت کو ، کسی نے کوئی اور کسی نے کوئی اپنا ٹارگٹ بنایا ہوتا ہے۔تو اب اے مسلمانو! تم نے جب ظاہری طور پر قبلہ کی طرف رخ کر لیا تو تمہارا یہ رخ ظاہری طور پر کر لینا کافی نہیں۔لیکن تمہارا ٹارگٹ، تمہارا مطمح نظر، تمہاری تمام کوشش کا ، جد وجہد کا مقصد فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ ہونا چاہیے۔یعنی تم تمام خیر کے کاموں میں، تمام نیکیوں میں آگے بڑھو، یہاں نیکیوں کے لئے خیرات کا لفظ رکھ کر توجہ دلائی ہے کہ تم ایسے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔جن سے اللہ کی طرف سے خیر و برکت تمہیں ملے اور لوگوں کو تمہاری وجہ سے فائدہ اور خیر و برکت ملے۔اس مضمون کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں:۔“ ہماری جماعت کو بھی چاہیے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنے نفس کو ٹٹولتا رہے اور دین کے ساتھ ایک گہری محبت اور شیفتگی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اور سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے بس اور یہی ایک مقصد اپنے سامنے رکھے کہ ہم نے اسلام کو دنیا میں غالب کرنا ہے۔جب تک یہ روح ہمارے اندر پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک ہم اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔" ا ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 256 مطبوعہ ربوہ)