365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 199 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 199

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 65 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔199 اقامت صلوۃ: اس کے بعد متقی کی شان میں آیا ہے وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ (البقرة:4) یعنی وہ نماز کو کھڑی کرتا ہے۔یہاں لفظ کھڑی کرنے کا آیا ہے۔یہ بھی اس تکلف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔جو متقی کا خاصہ ہے۔یعنی جب وہ نماز شروع کرتا ہے۔تو طرح طرح کے وساوس کا اسے مقابلہ ہوتا ہے جن کے باعث اس کی نماز گویا بار بار گری پڑتی ہے، جس کو اس نے کھڑا کرنا ہے جب اس نے اللہ اکبر کہا تو ایک ہجوم وساوس ہے جو اس کے حضور قلب میں تفرق ڈال رہا ہے۔وہ ان سے کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے۔پریشان ہوتا ہے۔ہر چند حضور و ذوق کے لئے لڑتا مرتا ہے، لیکن نماز جو گری پڑتی ہے، بڑی جان کنی سے اسے کھڑا کرنے کی فکر میں ہے۔بار بار ايَّاكَ نَعْبُدُ وَايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہہ کر نماز کے قائم کرنے کے لئے دعا مانگتا ہے اور ایسے الصراط المستقیم کی ہدایت چاہتا ہے جس سے اس کی نماز کھڑی ہو جائے۔ان وساوس کے مقابل میں متقی ایک بچہ کی طرح ہے، جو خدا کے آگے گڑ گڑاتا ہے۔روتا ہے اور کہتا ہے کہ میں آخُلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: 177) ہو رہا ہوں۔سو یہی وہ جنگ ہے جو متقی کو نماز میں نفس کے ساتھ کرنی ہوتی ہے اور اسی پر ثواب مترتب ہو گا۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نماز میں وساوس کو فی الفور دور کرنا چاہتے ہیں۔حالانکہ وَيُقِيمُونَ الصَّلوة کی منشاء کچھ اور ہے کیا خدا نہیں جانتا؟ حضرت شیخ عبد القادر گیلانی (رحمتہ اللہ علیہ) کا قول ہے کہ ثواب اس وقت تک جب تک مجاہدات ہیں اور جب مجاہدات ختم ہوئے، تو ثواب ساقط ہو جاتا ہے۔گویا صوم و صلوۃ اس وقت تک اعمال ہیں جب تک ایک جد وجہد سے وساوس کا مقابلہ ہے، لیکن جب ان میں ایک اعلیٰ درجہ پیدا ہو گیا اور صاحب صوم و صلوۃ تقویٰ کے تکلف سے بچ کر صلاحیت سے رنگین ہو گیا، تو اب صوم و صلوۃ اعمال نہیں رہے۔اس موقع پر انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب نماز معاف ہو جاتی ہے ؟ کیونکہ ثواب تو اس وقت تھا جس وقت