365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 113 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 113

درس حدیث درس حدیث نمبر 43 113 بعض دفعہ یہ دیکھتے میں آتا ہے کہ جب نماز با جماعت شروع ہو جاتی ہے یا جب امام نماز پڑھاتے ہوئے رکوع میں چلا جاتا ہے تو بعض بچے بلکہ بعض بڑی عمر کے دوست بھی نماز میں شامل ہونے کے لئے جلدی کی کوشش میں دوڑتے ہوئے آتے ہیں۔اور بعض اوقات تو ان کے دوڑنے کی وجہ سے ان کے قدموں کی آواز سے نمازیوں کی نماز میں خلل بھی آتا ہے۔ہمارے نبی صلی اللی یکم نے اس سے بڑی تاکید کے ساتھ منع فرمایا ہے حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ا ر م نے فرمایا : إِذَا سَمِعْتُمُ الْإِقَامَةَ فَامْشُوا إِلَى الصَّلَاةِ کہ جب تم تكبير تحریمہ کی آواز سنو تو چل کر نماز کے لئے آوَوَعَلَيْكُمْ بِالسّكِينَةِ وَالْوَقَارِ اور تم پر سکینت اور و قار لازم ہے وَلَا تُسْرِعُوا اور جلد بازی سے کام نہ لو فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا اور نماز تمہیں (امام کے ساتھ مل جائے وہ پڑھ لو وَمَا فَاتَكُمْ فَاتِمُّوا اور جو تم سے رہ جائے وہ پوری کر لو۔( بخاری کتاب الاذان باب لا يسعى الى الصلوة وليأت بالسكينة والوقار حديث نمبر 636) یہاں حضور علی ملی یکم نے بڑی وضاحت سے حکم دیا ہے کہ نماز شروع ہو چکی ہو تب بھی بھاگ دوڑ درست نہیں وقار کے ساتھ سکینت کے ساتھ آؤ اور نماز میں شامل ہو۔ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو جو رکوع میں شامل ہونے کے لئے دوڑ کر آتے ہیں کیونکہ نماز تو ہم اس لئے پڑھتے ہیں کہ اللہ نے ہمارے نبی صلی ال نیم کے ذریعہ ہمیں نماز کا حکم دیا ہے۔اس لئے لازمی ہے کہ ہم نماز پڑھیں مگر اس طرح جس طرح ہمارے نبی کریم علی ای کم کا حکم ہے۔یہ تو عجیب بات لگتی ہے کہ نماز ہم وہ پڑھیں جس کا حضور صلی الی یکم نے ہمیں حکم دیا ہے مگر پڑھیں اس طریق سے جس سے ہمارے نبی صلی الی یکم نے منع فرمایا ہے۔