365 دن (حصہ دوم) — Page 92
درس القرآن 92 درس القرآن نمبر 145 وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيوةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ (البقرة: 205) الدُّ الْخِصَامِ حج کے ایام میں خصوصاً اور اپنی زندگی کے گنے چنے ایام میں عموماً گزشتہ آیت میں ذکر الہی پر جو زور دیا گیا ہے اس آیت میں ذکر الہی کے حکم پر عمل کرنے والوں کے مقابلہ میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ جب وہ کسی مجلس میں بیٹھ کر دنیا کی باتیں کرتے ہیں تو تم سمجھتے ہو واہ وا یہ کتنے عقلمند اور سمجھدار ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے سارے علوم پر حاوی ہیں اور انکی عقل کو کوئی پہنچ نہیں سکتا اور پھر وہ اپنی دینداری کے متعلق اتنا یقین لوگوں کو دلاتے ہیں کہ کہتے ہیں خدا کی قسم ہمارے دل میں جو نیکیاں بھری ہوئی ہیں ان کو کوئی نہیں جانتا ہم سے مشورہ لیا جائے تو ہم یوں کر دیں گے دُوں کر دیں۔مگر فرماتا ہے حقیقت کیا ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہوتی ہے کہ بدترین دشمن جو تمہارے ہو سکتے ہیں وہ ان سے بھی زیادہ جھگڑالو اور خطرناک ہوتا ہے وہ ہو تا تمہارے ساتھ ہے وہ مسلمان کہلا تا ہے اور جب کسی مجلس میں بیٹھ جاتا ہے تو ساری مجلس پر چھا جاتا ہے اور اپنی دینداری اور تقویٰ پر قسمیں کھاتا ہے اور کہتا ہے کہ میر ادل تو قوم کے لئے گھلا جارہا ہے۔جب دیکھنے والا اسے دیکھتا ہے اور سننے والا اس کی باتیں سنتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ قطب الاقطاب بیٹھا ہے مگر فرماتا ہے۔دنیا میں تمہارے یہودی بھی دشمن ہیں۔عیسائی بھی دشمن ہیں اور قومیں بھی دشمن ہیں مگر یہ ان سے بھی بڑا اور خطرناک دشمن ہوتا ہے بظاہر تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ نیکی اور تقویٰ کا ایک مجسمہ ہے لیکن معاملہ بر عکس ہوتا ہے وہ کوئی دینی نکتے بیان نہیں کرتا بلکہ دنیوی امور کے متعلق ایسی باتیں کرتا ہے جو بظاہر تو بڑی اچھی ہوتی ہیں مگر در حقیقت ان کی تہہ میں منافقت کام کر رہی ہوتی ہے۔اور پھر اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتا چلا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا گواہ ہے میرے دل میں تو اخلاص ہی اخلاص ہے اور میں تو محض اپنے ا