365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 84 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 84

درس القرآن 84 درس القرآن نمبر 140 اَلْحَجُّ اشْهُرُ مَعْلُومَنَّ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَقِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ اللهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَأُولِي الْأَلْبَابِ (البقرة:198) حج کی عالمگیر عبادت کے بارہ میں اس آیت کے کچھ حصہ کا درس کل بیان ہو چکا ہے۔بقیہ آج پیش خدمت ہے۔جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے اس آیت میں حج کے بارہ میں اس کے بنیادی ارکان بیان ہو رہے ہیں۔حج چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے شروع تھا اس لئے اس کے بنیادی ارکان سے دنیا ایک حد تک متعارف تھی۔قرآن شریف نے اس کے بنیادی ارکان مختصر ابتا کر اس کے اخلاقی اور روحانی برکات پر زور دیا ہے۔چنانچہ جیسا کہ کل کے درس میں بھی بیان تھا حج کے سلسلہ میں فرمایا تھا۔(1) اپنی ذاتی اصلاح کرو اور اپنے دل کو ہر قسم کے گندے اور ناپاک علاقات سے پاک کرو۔(2) اللہ تعالیٰ سے اپنا پاک مخلصانہ تعلق رکھو۔(3) انسانوں سے تعلقات محبت استوار رکھو۔پھر فرماتا ہے وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمَهُ الله کہ یہ نصیحت اس لئے بھی ہے کہ جس کی طرف سے یہ نصیحت ہے وہ تمہاری نیکیوں کو خوب جانتا ہے نہ اس کو کوئی غلط فہمی ہے نہ اس کو کوئی دھو کہ دیا جاسکتا ہے۔وَتَزَوَدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوی پھر تاکیدی رنگ میں ارشاد فرماتا ہے کہ سفر کے لئے زاد راہ لے لیا کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کے اس حصہ کا ترجمہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:۔جب سفر کرو تو ہر ایک طور پر سفر کا انتظام کر لیا کرو اور کافی زاد راہ لے لیا کرو۔" اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحه 337) ایک اور جگہ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:۔" اور اپنے پاس تو شہ رکھو کہ توشہ میں یہ