365 دن (حصہ دوم) — Page 33
درس القرآن در س القرآن نمبر 104 33 وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُم فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَةً لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمُ حُجَّةُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوهُمْ وَاخْشَوْنِ وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (البقرة:151،150) پچھلی آیات میں یہ مضمون بیان کرنے کے بعد کہ اب قبلہ کا رخ تبدیل کیا جاتا ہے اب نہ یروشلم ، نہ بنارس، نہ کوہ سبلان، نہ کوئی اور قبلہ ہو گا بلکہ اب دائمی قبلہ مسجد الحرام ہے۔اس آیت میں یہ مضمون بیان کیا ہے کہ صرف نماز کے وقت مسجد الحرام کی طرف رخ کرنا کافی نہیں بلکہ وَمِنْ حَيْثُ خَرَجَت آپ کی جو بھی سرگرمی ہو ، جو مہم ہو آپ کی تمام سرگرمیوں اور تو جہات کا مرکزی نقطہ مسجد الحرام ہونی چاہیئے اور جس مقصد کے لئے مسجد الحرام کو قائم کیا گیا ہے آپ کے تمام کاموں کا محور وہ ہونا چاہیئے اور یہ کوئی وقتی حکم نہیں وَ إِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ یہ ایک دائمی صداقت اور کامل صداقت ہے جو آپ کی ذات مبارک کے ساتھ وابستہ ہے کیونکہ زید و بکر کے رب نے نہیں بلکہ آپ کے رب نے یہ حکم دیا ہے۔پھر فرماتا ہے۔یہ حکم سب سے پہلے تو آپ کو ہے وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کہ آپ کی عظیم الشان سرگرمیوں کا رخ مسجد الحرام کی طرف ہونا چاہیئے مگر اے مسلمانو! تم جہاں کہیں بھی ہو ، تمہارا رخ تمہارے کاموں کا مرکزی نقطہ مسجد الحرام ہونا چاہیئے (حضور صلی یکم کی عظیم الشان سر گرمیوں کو عام مسلمانوں کے کاموں سے ممتاز کرنے کے لئے حضور کے لئے خرجت کا لفظ استعمال کیا ہے اور مسلمانوں کے لئے گنتھ کا لفظ استعمال کیا ہے) فرماتا ہے۔اے مسلمانو! اگر تمہاری پوری توجہ کا مرکز مسجد الحرام اور اس کے قیام کے مقاصد کو پورا کرنا نہ ہو گا تو لازماً لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُم حُجَّةٌ لوگوں کو تم پر اعتراض کرنے کا موقعہ ملے گا۔الا الَّذِينَ ظَلَمُوا سوائے ان ظالموں کے جو جابے جا اعتراض کرتے ہیں ان کی پر واہ نہ کر