365 دن (حصہ دوم) — Page 208
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 70 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔208 آنحضرت علی ای کم اور آپ کے صحابہ کا معتام“ جو صدق و وفا آپ نے اور آپ کے صحابہ کرام نے دکھلایا اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔جان دینے تک سے دریغ نہ کیا۔حضرت عیسی کے لئے کوئی مشکل کام نہ تھا اور نہ ہی کوئی منکر الہام تھا۔برادری کے چند لوگوں کو سمجھانا کونسا بڑا کام ہے۔یہودی توریت تو پڑھے ہوئے تھے۔اس پر ایمان رکھتے تھے۔خدا کو وحدہ شریک جانتے ہی تھے۔بعض وقت یہ خیال آجاتا ہے کہ حضرت مسیح کیا کرنے آئے تھے۔یہودیوں میں تو توریت کے لئے اب بھی غیرت پائی جاتی ہے۔نہایت کار یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید اخلاقی نقص یہود میں تھے۔لیکن تعلیم تو توریت میں موجود ہی تھی۔باوجود اس سہولت کے کہ قوم اس کتاب کو مانتی تھی۔حضرت مسیح نے وہ کتاب سبقا سبقا ایک استاد سے پڑھی تھی۔اس کے مقابل ہمارے سید و مولی بادی کامل امی تھے۔آپ کا کوئی استاد نہ تھا اور یہ ایک واقعہ ہے کہ مخالف بھی اس امر سے انکار کر سکے۔پس حضرت عیسی “ کے لئے دو آسانیاں تھیں۔ایک تو برادری کے لوگ تھے اور جو بھاری بات ان سے منوانی تھی ،وہ پہلے ہی مان چکے تھے۔ہاں کچھ اخلاقی نقص تھے ، لیکن باوجود اتنی سہولت کے حواری بھی درست نہ ہوئے۔لالچی رہے۔حضرت عیسی اپنے پاس روپیہ رکھتے تھے۔بعض حواری چوریاں بھی کرتے تھے۔چنانچہ وہ (حضرت مسیح) کہتے ہیں۔کہ مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں۔لیکن ہم حیران ہیں کہ ایسا کہنے کے کیا معنی ہیں۔جب گھر بھی ہو۔مکان بھی ہو۔اور مال میں گنجائش اس قدر کہ چوری کی جاوے۔تو پتہ بھی نہ لگے۔خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔دکھانا یہ منظور ہے کہ باوجود ان تمام سہولتوں کے کوئی اصلاح نہ ہو سکی۔پطرس کو بہشت کی کنجیاں تو مل جاویں، لیکن وہ اپنے استاد کو ا لعنت دینے سے نہ رک سکے۔اب اس کے مقابلہ میں انصا ف دیکھا جاوے کہ ہمارے بادی اکمل کے صحابہ نے اپنے خدا اور رسول کے لئے کیا کیا جان نثاریاں کیں، جلا وطن ہوئے، ظلم اٹھائے، طرح طرح کے