365 دن (حصہ دوم) — Page 197
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 64 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام بیان کرتے ہیں:۔197 حضرت یوسف علیہ السلام کا معتام صدیقیت: “اگر گذشتہ زمانہ میں اس کی نظیر دیکھی جائے تو پھر یوسف صدیق ہے۔جس نے ایسا صدق دکھایا کہ یوسف صدیق کہلایا۔ایک خوبصورت، معزز اور جوان عورت جو بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، عین تنہائی اور تخلیہ میں ارتکاب فعل بد چاہتی ہے، لیکن آفرین ہے اس صدیق پر کہ خدا تعالیٰ کے حدود کو توڑنا پسند نہ کیا اور اس کے بالمقابل ہر قسم کی آفت اور دُکھ اُٹھانے کو آمادہ ہو گیا۔یہاں تک کہ قیدی کی زندگی بسر کرنی منظور کرلی، چنانچہ کہا: رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَى مِنَا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ (یوسف:34) یعنی یوسف علیہ السلام نے دعا کی کہ اے رب مجھ کو قید پسند ہے اس بات سے جس کی طرف وہ مجھے بلاتی ہے۔اس سے حضرت یوسف کی پاک فطرت اور غیرت نبوت کا کیسا پتہ لگتا ہے کہ دوسرے امر کا ذکر تک نہیں کیا۔کیا مطلب کہ اُس کا نام نہیں لیا۔یوسف اللہ تعالیٰ کے حسن واحسان کے گرویدہ اور عاشق زار تھے۔اُن کی نظر میں اپنے محبوب کے سوا دوسری کوئی بات بیچ نہ سکتی تھی۔وہ ہر گز پسند نہ کرتے تھے کہ حدود اللہ کو توڑیں۔کہتے ہیں کہ ایک لمبازمانہ جو بارہ برس کے قریب بتایا جاتا ہے ، وہ جیل میں رہے۔لیکن اس عرصہ میں کبھی حرف شکایت زبان پر نہ آیا۔اللہ تعالیٰ اور اُس کی تقدیر پر پورے راضی رہے۔اس عرصہ میں بادشاہ کو کوئی عرضی بھی نہیں دی کہ اُن کے معاملہ کو سوچا جائے یا اُنہیں رہائی دی جائے۔بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس خود غرض عورت نے تکالیف کا سلسلہ بڑھا دیا۔کہ کسی طرح پر وہ پھسل جاویں، مگر اس صدیق نے اپنا صدق نہ چھوڑا۔خدا نے ان کو صدیق ٹھہرایا۔یہ بھی صدق کا ایک مقام ہے کہ دُنیا کی کوئی آفت ، کوئی تکلیف اور کوئی ذلت اُسے حدود اللہ کے توڑنے پر آمادہ نہیں کر سکتی۔جس قدر بلائیں بڑھتی جاویں، وہ اُس کے مقام صدق کو زیادہ مضبوط اور لذیذ بناتی جاتی ہیں۔خلاصہ یہ کہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ جب انسان اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہہ کر صدق