365 دن (حصہ دوم) — Page 196
درس روحانی خزائن 196 میں منعکس ہو جاتے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب بہت مجاہدات اور تزکیوں کے بعد اس کے اندر کسی قسم کی کدورت یا کثافت نہ رہے تب یہ درجہ نصیب ہوتا ہے۔ہر ایک مومن کو ایک حد تک ایسی صفائی کی ضرورت ہے۔کوئی مومن بلا آئینہ ہونے کے نجات نہ پائیگا۔سلوک والا خود یہ صقیل کرتا ہے، اپنے کام سے مصائب اٹھاتا ہے ،لیکن جذب والا مصائب میں ڈالا جاتا ہے۔خدا خود اس کا مصقل ہوتا ہے اور طرح طرح کے مصائب و شدائد سے صیقل کر کے اس کو آئینہ کا درجہ عطا کر دیتا ہے۔دراصل سالک و مجذوب دونوں کا ایک ہی نتیجہ ہے سو متقی کے دو حصے ہیں۔سلوک و جذب۔مشکل الفاظ اور ان کے معانی: (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 18،17 مطبوعہ ربوہ) جس کی پیروی کی جائے سالک راہ چلنے والا عابد ، زاہد، صوفی متبوع صیقلوں کدورت صفائیوں کے بعد جلا کر صاف کرنا کینه ، دشمنی، گند روشن، چمکدار کثافت میلا پن، گندگی