365 دن (حصہ دوم) — Page 189
درس روحانی خزائن 189 درس روحانی خزائن نمبر 60 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔رسول کریم صل علیم کے اخلاق عالیہ “ سب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلی اللہ علم ہیں جو جمیع اخلاق میں کامل تھے۔اسی لئے آپ کی شان میں فرمایا: اِنَّكَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ( القلم :5) ایک وقت ہے کہ آپ فصاحت بیانی سے ایک گروہ کو تصویر کی صورت حیران کر رہے ہیں۔ایک وقت آتا ہے کہ تیر و تلوار کے میدان میں بڑھ کر شجاعت دکھاتے ہیں۔سخاوت پر آتے ہیں، تو سونے کے پہاڑ بخشتے ہیں۔علم میں اپنی شان دکھاتے ہیں، تو واجب القتل کو چھوڑ دیتے ہیں۔الغرض رسول اللہ صلی علیم کا بے نظیر اور کامل نمونہ ہے۔جو خدا تعالیٰ نے دکھادیا ہے۔اس کی مثال ایک بڑے عظیم الشان درخت کی ہے۔جس کے سایہ میں بیٹھ کر انسان اس کے ہر جزو سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرلے۔اس کا پھل اس کا پھول اور اس کی چھال، اس کے پتے۔غرض کہ ہر چیز مفید ہو۔آنحضرت صلی ال یکم اس عظیم الشان درخت کی مثال ہیں۔جس کا سایہ ایسا ہے کہ کروڑ ہا مخلوق اس میں مرغی کے پروں کی طرح آرام اور پناہ لیتی ہے۔لڑائی میں سب سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو آنحضرت صلی نیم کے پاس ہو تا تھا، کیونکہ آپ بڑے خطرناک مقام میں ہوتے تھے۔سبحان اللہ ! کیا شان ہے۔اُحد میں دیکھو کہ تلواروں پر تلواریں پڑتی ہیں۔ایسی گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے کہ صحابہ "بر داشت نہیں کر سکتے مگر یہ مردِ میدان سینہ سپر ہو کر لڑ رہا ہے اس میں صحابہ کا قصور نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا، بلکہ اس میں بھید یہ تھا کہ تا رسول اللہ صلی اللی علم کی شجاعت کا نمونہ دکھایا جاوے۔ایک موقع پر تلوار پر تلوار پڑتی تھی اور آپ نبوت کا دعویٰ کرتے تھے کہ محمد رسول اللہ میں ہوں۔کہتے ہیں حضرت کی پیشانی پر ستر زخم لگے۔مگر زخم خفیف تھے ، یہ خُلق عظیم تھا۔ایک وقت آتا ہے کہ آپ کے پاس اس قدر بھیڑ بکریاں تھی کہ قیصر و کسری کے پاس بھی نہ ہوں۔آپ نے وہ سب ایک سائل کو بخش دیں۔اب اگر پاس نہ ہوتا تو کیا بخشتے۔