365 دن (حصہ دوم) — Page 159
درس روحانی خزائن 159 سے بھی ہو گا۔مگر جو اپنا دل خدا سے صاف رکھے اور دیکھے کہ کوئی فرق خدا سے نہیں ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس سے کوئی فرق نہ رکھے گا۔انسان کا اپنا دل اس کے لیے آئینہ ہے وہ اس میں سب کچھ دیکھ سکتا ہے۔پس سچا طریق دُکھ سے بچنے کا یہی ہے کہ بچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی چاہو اور وفاداری اور اخلاص کا تعلق دکھاؤ اور اس راہ بیعت کو جو تم نے قبول کی ہے سب پر مقدم کرو کیونکہ اس کی بابت تم پوچھے جاؤ گے۔جب اسقدر اخلاص تم کو میسر آجاوے تو ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو ضائع کرے۔ایسا شخص سارے گھر کو بچالے گا۔اصل یہی ہے اس کو مت بھولو۔نری زبان میں برکت نہیں ہوتی کہ بہت سی باتیں کرلیں۔اصل برکت دل میں ہوتی ہے اور وہی برکت کی جڑ ہے۔زبان سے تو کروڑہا مسلمان کہلاتے ہیں جن لوگوں کے دل خدا کے ساتھ مستحکم ہیں اور وہ اس کی طرف سے آتے ہیں خدا بھی ان کی طرف وفا سے آتا ہے اور مصیبت اور بلا کے وقت ان کو الگ کر لیتا ہے۔یاد رکھو یہ طاعون خود بخود نہیں آئی اب جو کھوٹ اور بے وفائی کا حصہ رکھتا ہے وہ بلا اور وبا سے بھی حصہ لے گا مگر جو ایسا حصہ نہیں رکھتا خدا اُسے محفوظ رکھے گا۔" ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 64،63 مطبوعہ ربوہ) مشکل الفاظ اور ان کے معانی: دعا فریب، دھو کہ کھوٹ نقص، عیب