365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 158 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 158

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 42 158 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔جماعت کو نصائح: بیعت کے بعد ایک شخص نے اپنے گاؤں میں کثرت طاعون کا ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی۔فرمایا: میں تو ہمیشہ دعا کر تا ہوں مگر تم لوگوں کو بھی چاہئیے کہ ہمیشہ دعا میں لگے رہو نمازیں پڑھو اور تو بہ کرتے رہو۔جب یہ حالت ہو گی تو اللہ تعالیٰ حفاظت کرے گا اور اگر سارے گھر میں ایک شخص بھی ایسا ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس کے باعث سے دوسروں کی بھی حفاظت کرے گا۔کوئی بلا اور دکھ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے سوا نہیں آتا اور وہ اس وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور مخالفت کی جاوے۔ایسے وقت پر عام ایمان کام نہیں آتا بلکہ خاص ایمان کام آتا ہے۔جو لوگ عام ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالی ان کی طرف رجوع کرتا ہے اور آپ ان کی حفاظت فرماتا ہے مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللَّهُ لَہ بہت سے لوگ ہیں جو زبان سے لا الهَ اِلَّا اللہ کا اقرار کرتے ہیں اور اپنے اسلام اور ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔مگر وہ اللہ تعالیٰ کے لیے دکھ نہیں اٹھاتے۔کوئی دکھ یا تکلیف یا مقدمہ آجاوے تو فوراً خدا کو چھوڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں اور اس کی نافرمانی کر بیٹھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا مگر جو خاص ایمان رکھتا ہو اور ہر حال میں خدا کے ساتھ ہو اور دکھ اٹھانے کو تیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اس سے دکھ اٹھالیتا ہے اور دو مصیبتیں اس پر جمع نہیں کرتا دکھ کا اصل علاج دکھ ہی ہے اور مومن پر دو بلائیں جمع نہیں کی جاتیں۔ایک وہ دکھ ہے جو انسان خدا کے لیے اپنے نفس پر قبول کرتا ہے اور ایک وہ بلائے ناگہانی۔اس بلا سے خدا بچالیتا ہے۔پس یہ دن ایسے ہیں کہ بہت تو بہ کرو۔اگر چہ ہر شخص کو وحی یا الہام نہ ہو مگر دل گواہی دے دیتا ہے کہ خد تعالیٰ اُسے ہلاک نہ کرے گا۔دُنیا میں دو دوستوں کے تعلقات ہوتے ہیں۔ایک دوست دوسرے دوست کا مرتبہ شناخت کر لیتا ہے کیونکہ جیساوہ اس کے ساتھ ہے ایسا ہی وہ بھی اس کے ساتھ ہو گا۔دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔محبت کے عوض محبت اور دعا کے عوض دغا۔خدا تعالیٰ کے ساتھ معاملہ میں اگر کوئی حصہ کھوٹ کا ہو گا تو اسی قدر ادھر