365 دن (حصہ دوم) — Page 145
درس حدیث 145 درس حدیث نمبر 72 حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا یکم نے غزوہ خیبر کے موقعہ پر فرمایا: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي التَّوْمَ فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ (مسلم کتاب المساجد باب نهى من أكل ثوماً أو بصلاً أو كراثاً أو نحوها۔۔۔حديث نمبر 1248) کہ جو شخص اس پودہ ( یعنی لہسن) سے کچھ کھا کر آئے وہ مساجد میں نہ آئے۔ہمارے نی مصل الم کا یہ ارشاد قرآن شریف کے اس ارشاد کی تعمیل ہے کہ خُذُوا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (اعراف:32) کہ ہر مسجد میں اور ہر مسجد میں آتے ہوئے اپنی زینت کا سامان کرو، مراد یہ ہے کہ روحانی زینت یعنی تقویٰ بھی اختیار کرو اور ظاہری زینت اور صفائی کا بھی خیال رکھو۔حضرت عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا یکم مسجد میں تھے تو ایک شخص داخل ہوا جس کے سر اور داڑھی کے بال پراگندہ تھے۔رسول اللہ صلی العلیم نے اپنے ہاتھ سے اسے اشارہ فرمایا کہ باہر جاؤ۔گویا آپ کی مراد تھی سر اور داڑھی کے بالوں کی اصلاح کرے۔اس شخص نے ایسا ہی کیا اور پھر واپس آیا تو رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِّنْ أَنْ يَأْتِي أَحَدُكُمْ ثَائِرَ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ شَيْطَانٌ کہ کیا یہ اس سے بہتر نہیں کہ تم میں سے کوئی آئے اور اس کے سر کے بال پراگندہ ہوں گویاوہ شیطان ہے۔الشرسة (موطا امام مالک کتاب الشعر باب اصلاح الشعر حدیث نمبر 1770) حضرت ابوہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ ایک بڈو مسجد میں داخل ہوا اور نبی صلی اللی علم تشریف فرما تھے اور کچھ دیر نہ گزری تھی کہ اس بڈو نے مسجد میں پیشاب کر دیالوگ اس کی وو طرف جھپٹے۔آپ نے فرمایا: اس پر پانی کا ڈول بہا دو۔" (ترمذی کتاب الطهارة باب ماجاء فى البول يصيب الارض حدیث نمبر (147) حضرت ابوہریرہؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک سیاہ فام مرد یا عورت مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی اس کی وفات ہو گئی اور رسول اللہ صلی ال نیم کو اس کی وفات کا علم نہ ہوا۔آپ نے ایک دن اس کا ذکر فرمایا اور اس کے بارہ میں پوچھا تو اس کی وفات کا بتایا گیا۔آپ نے فرمایا مجھے تم لوگوں