365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 144 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 144

درس حدیث 144 درس حدیث نمبر 71 حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ مِ اللهِ قُلْتُ يَارَسُوْلَ اللهِ! أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ الصَّلوةُ عَلَى مِيْقَاتِهَا قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ (بخاری کتاب الجهاد والسير باب فضل الجهاد والسير حديث نمبر (2782) ہمارے نبی صلی اللہ نیلم نے بہت حکیمانہ رنگ میں اس حدیث میں اعمال کی فضیلت کا ذکر فرمایا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی ا کرم کی خدمت میں عرض کیا۔یارسول اللہ ! سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والا کونسا عمل ہے۔آپ صلی ا ہم نے فرمايا: الصَّلوةُ عَلَى مِيقَاتِها که نماز وقت مقررہ پر ادا کرنا سب سے افضل عمل ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے پھر عرض کیا اس کے بعد ؟ آپ صلی الم نے فرمایا: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ماں باپ سے نیک سلوک۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے پھر عرض کیا اس کے بعد ؟ آپ صلی الم نے فرمایا: الْجِهَادُ فِي سَبِیلِ اللہ اللہ کے راستہ میں جدوجہد۔اس مختصر سے سوال جواب سے ہی اسلام کی فضیلت اور رسول اکرم صلی الم کے حکیمانہ ارشادات کی عظمت کا احساس ہوتا ہے کہ حضور صلی الی یم نے سب سے پہلے حقوق اللہ میں سے چوٹی کے حق کا ذکر فرمایا جو وقت پر نماز کی ادائیگی ہے اس کے بعد حضور صلی الی کلم نے حقوق العباد میں سے سب سے زیادہ اہم حق کا ذکر فرمایا جو والدین کی اطاعت اور ان سے نیک سلوک ہے اور تیسرے نمبر پر اللہ کے راستہ میں جہاد کا ذکر فرمایا جس سے مراد دین کی خدمت اور اس کے لئے جد و جہد ہے۔یہ اللہ کا فضل ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی نگرانی میں ان تینوں نیکیوں کی طرف خصوصی توجہ دیتے ہیں۔اللہ کے فضل سے نماز بہ جملہ شرائط کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ماں باپ کی خدمت میں لگے رہتے ہیں اور دین کی خدمت کے لئے مالی قربانی اور تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ