365 دن (حصہ دوم) — Page 143
درس حدیث 143 درس حدیث نمبر 70 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی الم نے فرمایا: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيْهِ مَايُحِبُّ لِنَفْسِهِ ( بخاری کتاب الایمان باب من الایمان ان يحب لاخيه ما يحب لنفسه حديث نمبر 13) کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہی کچھ نہ پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔اس صرف دس (10) الفاظ پر مشتمل حدیث میں ہمارے نبی صلی الیم نے نہ صرف اپنے رشتہ میں بھائی سے یا مذہب اور وطن کے لحاظ سے بھائی سے بلکہ اپنے ہر انسان بھائی سے محبت اور حسن سلوک کی ایک ایسی تعلیم دی ہے جو انسانیت کے تمام اختلافات اور جھگڑوں کو مٹاسکتی ہے۔بعض دفعہ یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ سگے بھائی بھی آپس میں الجھ پڑتے ہیں اور اپنے وطنی یا مذ ہبی بھائیوں سے نقار دنیا میں عام ہے پھر دوسرے رنگ یا نسل یا مذ ہب یا ملک سے تعلق رکھنے والوں سے بیر رکھنا تو ایک طرح کا فیشن بن چکا ہے اگر انسان ہمارے نبی صلی ا نام کی اس نصیحت کی طرف توجہ کرے اور اپنے ہر انسان بھائی کے لئے وہی بات پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے تو یہ دنیا امن و امان کی جنت بن سکتی ہے۔بے شک لوگوں میں مذہب کی بنیاد پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے مگر اختلاف رائے اور چیز ہے اور مختلف رائے رکھنے والوں سے بغض اور نفرت بالکل الگ چیز ہے۔ہماری کتاب قرآن شریف نے اسلام سے سخت بغض رکھنے والے یہود و نصاریٰ کو بھی مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ قُلْ يَاهْلَ الْكِتَب تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اے نبی اہل کتاب کو کہو کہ اس بات کی طرف آجاؤ جو ہم میں اور تمہارے درمیان مشترک ( یعنی تم بھی کہتے ہو کہ خدا ایک ہے اس کی عبادت کرنی چاہئے ہم بھی کہتے ہیں کہ خدا ایک ہے اس کی عبادت کرنی چاہئے ) اور فرماتا ہے فان تولوا اگر وہ پھر جائیں فَقُولُوا اشْهَدُوا تو تم کہو پھر گواہ رہو پانا مُسْلِمُونَ کہ ہم نے صلح کی پیش کش کر دی ہے۔