365 دن (حصہ دوم) — Page 124
درس حدیث 124 درس حدیث نمبر 52 حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الیم کو سنا آپ فرماتے تھے: عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ عَيْن بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ الله (ترمذی کتاب فضائل الجهاد باب ما جاء في فضل الحرس فی سبیل اللہ حدیث نمبر 1639) کہ دو آنکھیں ہیں جن کو کبھی آگ نہیں چھوٹے گی ایک تو وہ آنکھ جو اللہ کی خشیت کی وجہ سے آنسو بہائے اور دوسری وہ آنکھ جو خدا کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے بیدار رہے۔اس حدیث میں ہمارے نبی صلی یکم نے دین کے دو پہلوؤں کا نہایت لطیف رنگ میں تذکرہ فرمایا ہے۔دین کا ایک پہلو خدا تعالیٰ کے حسن و احسان کی وجہ سے اس سے محبت اور خدا تعالیٰ کے جلال اور عظمت کے احساس کی وجہ سے اس کا خوف اور ڈر ہے اور یہ دونوں باتیں ہیں جن کی وجہ سے انسان کی آنکھیں آنسو بہاتی ہیں۔محبوب کی محبت کی وجہ سے بھی انسان روتا ہے اور محبوب کی ناراضگی اور جدائی کے ڈر سے بھی انسان روتا ہے اس لئے وہ آنکھ جو خدا کی محبت میں آنسو بہاتی ہے اور خدا کی خشیت کی وجہ سے آنسو بہاتی ہے آگ اس کے قریب بھی نہیں جاسکتی۔دین کا دوسرا پہلو ہے دین کی خدمت کے کام میں محنت کرنا جہد و جہد کرنا کوشش کرنا دین کی حفاظت کے لئے جانفشانی کرنا حضور علی الی یکم نے فرمایا کہ جو آنکھ اللہ کے راستہ میں پہرہ دیتی ہیں رات جاگتے گزار دیتی ہو اس آنکھ کو بھی آگ نہیں چھوئے گی۔اس آنکھ نے خدمت کرتے ہوئے جاگتے رات گزاری ہے۔تو ہمارے نبی صلی علیم نے ایک طرف روحانیت اور محبت الہی اور خوف خدا کرنے والی آنکھ کو عذاب سے محفوظ قرار دیا ہے اور دوسری طرف خدمت دین کرنے والی آنکھ کو عذاب سے محفوظ قرار دیا ہے۔