365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 89 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 89

درس القرآن 89 درس القرآن نمبر 143 فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكَرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَالَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة: 201 202) حج کے ارکان کی ادائیگی کے مضمون کے اختتام پر بڑے زور سے دعا کے مضمون کو بیان کیا ہے۔اسلام کی عبادات کا گہرا تعلق دعا سے ہے، نماز سراسر دعا ہے۔رمضان کی عبادات کے ذکر کے اختتام پر فرمایا تھا۔کہ اے رسول جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو جواب دو کہ میں ان کے پاس ہی ہوں جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں اور اب یہاں حج کے ارکان کے بیان کے اختتام پر دعا کا خصوصی ذکر ہے فرماتا ہے فَإِذَا قَضَيْتُم مناسككم کہ جب تم مناسک حج ادا کر چکو فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا کہ تم خدا تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتے ہو۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔یعنی جس طرح ایک چھوٹا بچہ جو اپنی ماں سے جد اہوتا ہے روتا اور چلاتا ہوا کہتا ہے کہ میں نے اپنی اناں کے پاس جانا ہے اسی طرح تم بھی بار بار خد اتعالیٰ کا ذکر کرو تا کہ اس کی محبت تمہارے رگ وریشہ میں سرایت کر جائے جس طرح بچوں کے دل میں اپنے ماں باپ کی ملاقات کا اشتیاق ہوتا ہے۔اسی طرح تمہارا بھی خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا ہی روحانی تعلق ہونا ہیے۔۔۔۔جولوگ اپنے ماں باپ کی محبت میں بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کا ہاتھ پوشیدہ دیکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں ماں باپ کے تعلق کو بالکل بیچ سمجھتے ہیں۔ان کو چاہیے کہ وہ خد تعالیٰ کا ایسے رنگ میں ذکر کریں کہ ان کے دنیوی تعلقات میں اس کی کوئی مثال دکھائی نہ دے اور ماں باپ کا ذکر اس کے مقابلہ میں بالکل بیچ ہو جائے۔” ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 444،443 مطبوعہ ربوہ)