365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 86 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 86

درس القرآن 86 درس القرآن نمبر 141 لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفْتٍ فَاذْكُرُوا اللهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدُ لَكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ ثُمَّ أَفِيُضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ (البقرة: 200،199) فرماتا ہے تمہارے لئے یہ کوئی گناہ کی بات نہیں کہ حج کے ایام میں اپنے رب سے کوئی اور فضل بھی مانگ لو پھر جب تم عرفات سے لوٹو تو مشعر الحرام جو عام طور پر مزدلفہ کے نام سے معروف ہے اللہ کا ذکر کرو اور جس طرح اس نے تمہیں ہدایت دی ہے اس کے مطابق اسے یاد کر واگر چہ اس سے پہلے تمہیں خدا کی طرف جانے کا راستہ معلوم نہیں تھا۔حضرت مصلح موعودؓ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ فضل سے مراد اس جگہ تجارت ہے اور میرے نزدیک بھی یہ درست ہے مگر فضل سے صرف تجارت مراد لینا ایک وسیع مضمون کو محدود کر دینا ہے۔در حقیقت آج اسلام کو جس بہت بڑی مصیبت کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں چاروں طرف کفر غالب ہے اور مسلمان جمود اور بے حسی کا شکار ہیں۔ان کے دلوں میں یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لئے اس جنون سے کام لیں جس جنون سے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے کام لیا تھا اور اسلام کو تھوڑے عرصہ میں ہی تمام معلومہ دنیا میں غالب کر دیا تھا پس حج کے ذکر کے ساتھ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللہ فرما کر میرے نزدیک اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم اس عظیم الشان اجتماع سے بعض دوسرے فوائد بھی حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ کا وہ فضل تلاش کرو جس کے نتیجہ میں مسلمان قعر مذلت سے نکل کر بام عروج پر پہنچ جائیں اور اسلام کی اشاعت کے لئے مختلف ممالک کے با اثر اور ممتاز افراد کے ساتھ مل کر ایسی سکیمیں سوچو جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو جائے اور اسلام دنیا پر غالب آجائے۔غرض اس فضل کو تلاش کرنا جس کے نتیجہ میں اسلام کو غلبہ حاصل ہو اللہ تعالیٰ نے ہمارا فرض قرار دیا ہے۔" ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 441،440 مطبوعہ ربوہ) ان دو آیات کی تشریح جاری ہے ) وو