365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 82 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 82

درس القرآن 82 درس القرآن نمبر 139 اَلْحَجُّ اشْهُرُ مَعْلُومَنَّ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَقِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ اللهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَأُولِي الْأَلْبَابِ (البقرة:198) حج کی عالمگیر اجتماعی عبادت کے حکم اور اس کے بارہ میں مسائل اور ہدایات کا تذکرہ جاری ہے اور چونکہ یہ عبادت اسلام سے قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے جاری تھی اور لوگ اس کے طریق سے واقف تھے اس لئے تفصیلی طریق حج کی ضرورت نہیں تھی۔اس لئے قرآن شریف میں طواف بیت اللہ ، سعی صفا و مروہ قربانی، عرفات اور مزدلفہ کا ذکر کر کے حج کے سابقہ طریق کے بنیادی ارکان کی تصدیق کر دی ہے۔قرآن شریف کا کمال یہ ہے کہ بنیادی امور کو بیان کرنے کے ساتھ ایسی جزوی اور فروعی تفصیلات کو چھوڑ دیتا ہے جن کی حقیقی ضرورت نہیں ورنہ بعض سابقہ مذاہب مثلاً بدھ ازم کی 5 ہزار کتب کی طرح قرآن شریف کو پڑھنا، سمجھنا اور پھر اس پر عمل کرنا ماننے والوں کے لئے مشکل ہو جاتا۔پہلا سوال یہ تھا کہ حج کب کیا جائے فرماتا ہے الْحَجُّ اشْهُرُ مَعْلُومَت حج کے مہینے معروف ہیں، مقررہ وقت پر عمل کرنے کے ساتھ حج کو ہر قسم کے گناہوں سے پاک کرنا ضروری ہے۔حضرت مصلح موعودؓ اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔“ یہاں رفت، فسوق اور جدال تین گناہوں کے چھوڑنے کا ذکر کیا گیا ہے۔رفت مرد عورت کے مخصوص تعلقات کو کہتے ہیں۔لیکن اس کے علاوہ بد کلامی کرنا۔گالیاں دینا۔گندی باتیں کرنا۔قصے سنانا۔لغو اور بے ہودہ باتیں کرنا جسے پنجابی میں گپیں مار نا کہتے ہیں۔یہ تمام امور بھی رفت میں ہی شامل ہیں۔اور فسوق وہ گناہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں انسان اس کی اطاعت اور فرمانبرداری سے باہر نکل جاتا ہے۔آخر میں جدال کا ذکر کیا ہے جو تعلقات باہمی کو توڑنے والی چیز ہے۔ان تین الفاظ کے ذریعہ در حقیقت اللہ تعالیٰ نے تین اصلاحوں کی طرف توجہ دلائی ہے، فرمایا ہے۔