365 دن (حصہ دوم) — Page 30
درس القرآن 30 درس القرآن نمبر 102 الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ (البقرة: 148) پہلا قبلہ چھوڑ کر بیت اللہ کو قبلہ بنانا ہر شخص کا فرض ہے خواہ وہ عیسائی ہو یا یہودی ہو یا زرتشتی مذہب سے تعلق رکھتا ہو یا ہندومت ہو یا بدھ ہو اس لئے تبدیل قبلہ کے بعد فرمایا کہ تمہیں، ہر انسان کو ، خدا نے پیدا کیا ہے خدا نے ہی دل و دماغ دیئے ، خدا نے ہی رزق عطا فرمایا اور خدا ہی مالک ہے ، یہ سب معنے ربک کے ہیں۔جو پیدا کرنے والا، نشو و نما کرنے والا، رزق دینے والا اور تمہارا مالک ہے۔یہ کامل صداقت کہ دوسرے قبلوں کو چھوڑ کر حقیقی قبلہ کی طرف رخ کر وجب اس ہستی کی طرف سے ہے جس میں یہ صفات ہیں تو پھر جو اس کا حکم ہے، جو اس کی طرف سے صداقت آئی ہے اس کو ماننا ضروری ہے۔شک تو اس صورت میں ہو کہ یہ صداقت کسی اور کی طرف سے ہو جو نہ پیدا کرنے والا، نہ نشو و نما کرنے والا، نہ رزق دینے والا، نہ ہی مالکانہ حیثیت رکھتا ہے، پھر بے شک اس کے متعلق شک کیا جاسکتا ہے مگر اس خدا کی طرف سے آنے والی صداقت کا جو حقیقتا تمہارا رب ہے شک کرنا سراسر نادانی ہے۔یہ معنے اس صورت میں ہیں کہ من ربک کا خطاب ہر انسان کے لئے ہو۔اگر خطاب رسول کریم صلی علیم کی طرف ہو تو مراد یہ ہے کہ رسول اکرم صلی علیم کے رب کی طرف سے یہ کامل صداقت ہے اور رسول کریم صلی اللی کمی کی پیدائش اور نشو و نما اور دعویٰ اور نشانات و ترقیات و معجزات محض آپ کا چہرہ اور وجود ہی آپ کی صداقت کا ثبوت ہیں اس لئے جو حکم آپ کی معرفت دیا جارہا ہے وہ کامل حق ہے اس لئے اے مخاطب اس کے بارہ میں شبہ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔