365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 220 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 220

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 78 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔220 عبادت محبت ہی کا دوسرا نام ہے: اگر اسلام کی عزت کے لئے دل میں محبت نہیں ہے، تو عبادت بھی بے سود ہے، کیونکہ عبادت محبت ہی کا دوسرانام ہے۔وہ تمام لوگ جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ایسی چیز کی عبادت کرتے ہیں جس پر کوئی سلطان نازل نہیں ہوا، وہ سب مشرک ہیں۔سلطان تسلط سے لیا گیا ہے جو دل پر تسلط کرے اس لیے یہاں دلیل کا لفظ نہیں لکھا ہے۔عبادت کیا ہے۔جب انتہا درجہ کی محبت کرتا ہے۔جب انتہا درجہ کی اُمید ہو۔انتہا درجہ کا خوف ہو۔یہ سب عبادت میں داخل ہے۔غیر اللہ کی عبادت کا اتناہی مفہوم نہیں ہے کہ سجدہ نہ کیا جاوے۔نہیں۔بلکہ اُس کے مختلف مدارج ہیں۔اگر کوئی مال سے انتہاء درجہ کی محبت کرتا ہے تو وہ اس کا بندہ ہوتا ہے خدا کا بندہ وہ ہے جو خدا کے سوا اور چیزوں کی حد اعتدال تک رعایت کرتا ہے۔اسلام میں محبت وامید منع نہیں ہے، مگر ایک حد تک۔اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرما دیا ہے کہ جو خدا سے محبت کرتے ہیں۔اسی سے ڈرتے اسی سے اُمید رکھتے ہیں۔وہ ایک سلطان رکھتے ہیں، لیکن جو نفس کے تابع ہوتے ہیں۔ان کے پاس کوئی سلطان نہیں ہے۔جو محکم طور پر دل کو پکڑے۔غرض انسان کا کوئی فعل اور قول ہو جب تک وہ خدائی سلطان کا پیرو نہ ہو۔شرک کرتا ہے۔پس ہم جو اپنی کاروائی کی دو طور پر اشاعت چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی شاہد نہیں ہو سکتا کہ کس قدر سچے جوش اور خالصہ للہ اس کو پیش کرتے ہیں۔ہمیں اتفاق نہیں ہوا کہ انگریزی میں لکھ پڑھ سکتے۔اگر ایسا ہو تا تو ہم کبھی بھی اپنے دوستوں کو تکلیف نہ دیتے، مگر اس میں مصلحت یہ تھی کہ تا دوسروں کو ثواب کے لیے بلائیں، ورنہ میری طبیعت تو ایسی واقع ہوتی ہے کہ جو کام میں خود کر سکتا ہوں۔اُس کے لئے کسی دوسرے کو کبھی کہتا ہی نہیں۔اگر آنحضرت صلی علیہ کی اور چار برس زندگی پاتے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ فوت ہو جاتے۔دراصل آنحضرت صلی اعلی ولوم و فتح عظیم جس کا آپ کے ساتھ وعدہ تھا، حاصل کر چکے تھے رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا ( النصر :3) دیکھ چکے تھے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ (المائدہ:4) ہو چکا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا کہ اُن کو محروم رکھے، بلکہ یہی چاہا کہ اُن کو بھی ثواب میں داخل کر دے۔اسی وہ طرح پر اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم کو اس قدر خزانے دے دیتا کہ ہم کو پروا بھی نہ رہتی۔