365 دن (حصہ دوم) — Page 211
درس روحانی خزائن 211 درس روحانی خزائن نمبر 72 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔بلند ہمتی اور شجاعت : “ ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ہمت اخلاق فاضلہ میں سے ہے اور مومن بڑا بلند ہمت ہوتا ہے اور اسے ہر وقت خدا تعالیٰ کے دین کی نصرت اور تائید کے لئے تیار رہنا چاہیے اور کبھی بزدلی ظاہر نہ کرنی چاہیے۔بزدلی منافق کا نشان ہے۔مومن دلیر اور شجاع ہوتا ہے ، مگر شجاعت سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس میں موقعہ شناسی نہ ہو۔موقعہ شناسی کے بغیر جو فعل کیا جاتا ہے۔وہ تہور ہوتا ہے۔مومن میں شتاب کاری نہیں ہوتی، بلکہ وہ نہایت ہوشیاری اور تحمل کے ساتھ نصرت دین کے لئے تیار رہتا ہے اور بزدل نہیں ہوتا۔انسان سے کبھی ایسا فعل سر زد ہو جاتا ہے جو خدا تعالیٰ کو ناراض کر دیتا ہے اور کبھی خوش کر دیتا ہے۔مثلاً اگر کسی سائل کو دھکا دیا تو وہ سختی کا موجب ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا فعل ہو تا ہے، اس لئے اسے توفیق نہ ملے گی کہ وہ اسے کچھ دے سکے، لیکن اگر اس سے نرمی اور اخلاق سے پیش آئے گا، تو خواہ اسے پانی کا پیالہ ہی دیدے، تو وہ بھی ازالہ قبض کا موجب ہو جائے گا۔استغفار۔قبض کا علاج: انسان پر قبض اور بسط کی حالت آتی رہتی ہے۔بسط کی حالت میں ذوق اور شوق بڑھ جاتا ہے اور قلب میں ایک انشراح پیدا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف توجہ بڑھ جاتی ہے۔نمازوں میں لذت اور سرور پیدا ہوتا ہے، لیکن بعض وقت ایسی حالت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔کہ وہ ذوق اور شوق جاتا رہتا ہے اور دل میں ایک تنگی کی حالت ہو جاتی ہے۔جب ایسی حالت ہو جائے تو اس کا علاج یہ ہے کہ کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور پھر درود شریف بھی پڑھے۔نماز بھی بار بار پڑھے۔قبض کے دور ہونے کا یہی علاج ہے۔” مشکل الفاظ اور ان کے معانی: وو ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 195،194 مطبوعہ ربوہ) تہور بے موقع، بغیر سوچے سمجھے زور آزمائی طاقت کا استعمال کرنا شتاب کاری جلد بازی