365 دن (حصہ دوم) — Page 202
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 67 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔202 “سچا مذہب انسانی قوی کا مربی ہوتا ہے: ایسا ہی جو لوگ انتقام ، غضب یا نکاح کو ہر حال میں برا مانتے ہیں، وہ بھی صحیفہ قدرت کے مخالف ہیں اور قویٰ انسانی کا مقابلہ کرتے ہیں۔سچا مذ ہب وہی ہے جو انسانی قویٰ کا مربی ہو ، نہ کہ ان کا استیصال کرے۔رجولیت یا غضب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے فطرت انسانی میں رکھے گئے ہیں۔ان کو چھوڑ نا خدا کا مقابلہ کرنا ہے۔جیسے تارک الدنیا ہونا یا راہب بن جانا۔یہ تمام امور حق العباد کو تلف کرنے والے ہیں۔اگر یہ امر ایسا ہی ہو تا تو گویا اس خدا پر اعتراض ہے جس نے یہ قوی ہم میں پیدا کیے۔۔۔۔پس ایسی تعلیمات جو انجیل میں ہیں اور جن سے قوی کا استیصال لازم آتا ہے ، ضلالت تک پہنچاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ تو اس کو تعدیل کا حکم دیتا ہے۔ضائع کرنا پسند نہیں کرتا۔جیسے فرمایا انَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ (النحل:91) عدل ایک ایسی چیز ہے ، جس سے سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔حضرت مسیح کا یہ تعلیم دینا کہ اگر تو بری آنکھ سے دیکھے ، تو آنکھ نکال ڈال اس میں بھی قویٰ کا استیصال ہے، کیونکہ ایسی تعلیم نہ دی کہ تو غیر محرم عورت کو ہر گز نہ دیکھ ، مگر بر خلاف اس کی اجازت دی کہ دیکھ تو ضرور ، لیکن زنا کی آنکھ سے نہ دیکھ۔دیکھنے سے تو ممانعت ہے ہی نہیں۔دیکھے گا تو ضرور ، بعد دیکھنے کے دیکھنا چاہیے کہ اس کے قویٰ پر کیا اثر ہو گا۔کیوں نہ قرآن شریف کی طرح آنکھ کو ٹھو کر والی چیز ہی کے دیکھنے سے روکا۔اور آنکھ جیسی مفید اور قیمتی چیز کو ضائع کر دینے کا افسوس لگایا۔اسلامی پر وہ آجکل پردہ پر حملے کیے جاتے ہیں۔لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زنداں نہیں، بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔جب پردہ ہو گا، ٹھوکر سے بچیں گے۔ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مرد و عورت اکٹھے بلا تامل اور بے محابا مل سکیں، سیر میں کریں۔کیونکر جذبات نفس سے اضطرار آ ٹھو کر نہ کھائیں گے۔