365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 191 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 191

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 61 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔191 قول و فعل میں مطابقت: “اللہ کا خوف اس میں ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کا قول و فعل کہاں تک ایک دوسرے سے مطابقت رکھتا ہے۔پھر جب دیکھے کہ اس کو قول و فعل برابر نہیں تو سمجھ لے کہ مورد غضب الہی ہو گا۔جو دل ناپاک ہے خواہ قول کتنا ہی پاک ہو وہ دل خدا کی نگاہ میں قیمت نہیں پاتا بلکہ خدا کا غضب مشتعل ہو گا۔پس میری جماعت سمجھ لے کہ وہ میرے پاس آئے ہیں اسی لئے کہ تخم ریزی کی جاوے جس سے وہ پھل دار درخت ہو جائے پس ہر ایک اپنے اندر غور کرے کہ اس کا اندرونہ کیسا ہے ؟ اور اس کی باطنی حالت کیسی ہے ؟ اگر ہماری جماعت بھی خدا نخواستہ ایسی ہے کہ اس کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے تو پھر خاتمہ بالخیر نہ ہو گا۔اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ ایک جماعت جو دل سے خالی ہے۔اور زبانی دعوے کرتی ہے۔وہ غنی ہے۔وہ پر واہ نہیں کرتا۔بدر کی فتح کی پیش گوئی ہوچکی تھی ، ہر طرح فتح کی امید تھی، لیکن پھر بھی آنحضرت صلی ال رورو کو دعامانگتے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق نے عرض کیا کہ جب ہر طرح کا فتح کا وعدہ ہے، تو پھر ضرورت الحاح کیا ہے ؟ آنحضرت صلی الم نے فرمایا کہ وہ ذات غنی ہے، یعنی ممکن ہے کہ وعدہ الہی میں کوئی مخفی شرائط ہوں۔برکات تقوی: پس ہمیشہ دیکھنا چاہیے کہ ہم نے تقویٰ و طہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے۔اس کا معیار قرآن ہے۔اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں ایک یہ بھی نشان رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو مکروہات دنیا سے آزاد کر کے اس کے کاموں کا خود کفیل ہو جاتا ہے۔جیسے کے فرمايا: وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (الطلاق:43) جو شخص خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک مصیبت میں اس کے لئے راستہ مخلصی کا نکال دیتا ہے اور اس کے لئے ایسے روزی کے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے علم و گمان میں نہ ہوں، یعنی یہ بھی ایک علامت متقی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو نابکار ضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا۔مثلاً ایک دکان دار یہ خیال کرتا ہے کہ دروغ گوئی کے سوا اس کا کام ہی نہیں چل سکتا، اس لئے وہ درونگوئی سے باز نہیں آتا اور جھوٹ بولنے کے لئے وہ مجبوری ظاہر کرتا ہے ، لیکن یہ امر ہر گز سچ نہیں۔