365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 180 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 180

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 55 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔180 گناہ اور توبہ کی حقیقت : گناہ کی یہ حقیقت نہیں ہے کہ اللہ گناہ کو پیدا کرے اور پھر ہزاروں برس کے بعد گناہ کی معافی سُوجھے۔جیسے ملٹھی کے دو پر ہیں۔ایک میں شفا اور دوسرے میں زہر۔اسی طرح انسان کے دو پر ہیں۔ایک معاصی کا دوسرا خجالت، تو بہ ، پریشانی کا۔یہ ایک قاعدہ کی بات ہے جیسے ایک شخص جب غلام کو سخت مارتا ہے تو پھر اُس کے بعد بچھتاتا ہے۔گویا کہ دونوں پر اکٹھے حرکت کرتے ہیں۔زہر کے ساتھ تریاق ہے۔اب سوال یہ ہے کہ زہر کیوں بنایا گیا؟ تو جواب یہ ہے کہ گو یہ زہر ہے ، مگر گریہ کرنے سے حکم اکسیر کا رکھتا ہے۔اگر گناہ نہ ہو تا تو رعونت کا زہر انسان میں بڑھ جاتا اور وہ ہلاک ہو جاتا۔توبہ اس کی تلافی کرتی ہے۔کبر اور محجب کی آفت سے گناہ انسان کو بچائے رکھتا ہے۔جب نبی معصوم ستر بار استغفار کرے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ گناہ سے توبہ وہی نہیں کرتا جو اس پر راضی ہو جاوے اور جو گناہ کو گناہ جانتا ہے ، وہ آخر اُسے چھوڑے گا۔حدیث میں آیا ہے کہ جب انسان بار بار رورو کر اللہ سے بخشش چاہتا ہے تو آخر کار خدا کہہ دیتا ہے کہ ہم نے تجھ کو بخشش دیا۔اب تیر اجو جی چاہے سو کر۔اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے دل کو بدل دیا اور اب گناہ اُسے بالطبع بُرا معلوم ہو گا۔جیسے بھیٹر کو میلا کھاتے دیکھ کر کوئی دو سر احرص نہیں کرتا کہ وہ بھی کھاوے، اسی طرح وہ انسان بھی گناہ نہ کرے گا جسے خدا نے بخش دیا ہے۔مسلمانوں کو خنزیر کے گوشت سے بالطبع کراہت ہے، حالانکہ اور دوسرے ہزاروں کام کرتے ہیں جو حرام اور منع ہیں۔تو اس میں حکمت یہی ہے کہ ایک نمونہ کر اہت کا رکھ دیا ہے اور سمجھا دیا ہے کہ اسی طرح انسان کو گناہ سے نفرت ہو جاوے۔دعا تریاق ہے: گناہ کرنے والا اپنے گناہوں کی کثرت وغیرہ کا خیال کر کے دُعا سے ہر گز باز نہ رہے۔دعا تریاق ہے۔آخر دعاؤں سے دیکھ لے گا کہ گناہ اسے کیسا برا لگنے لگا۔جو لوگ معاصی میں ڈوب کر دعا کی قبولیت سے مایوس رہتے ہیں اور توبہ کی طرف رجوع نہیں کرتے ، آخر وہ انبیاء اور ان کی تاثیرات کے منکر ہو جاتے ہیں۔