365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 141 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 141

درس حدیث 141 درس حدیث نمبر 68 حضرت ابو موسی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷺ نے فرمایا: الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَقْرَاءُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالْأُ تُرجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيْحُهَا طَيِّبُ وَالْمُؤْمِنُ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالتَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا ( بخاری کتاب فضائل القرآن باب اثم من رأى بقراءة القرآن۔۔۔۔حديث نمبر 5059) اس حدیث میں ہمارے نبی صلی اللہ کریم نے بڑے لطیف انداز میں اور ایک خوبصورت مثال کے ساتھ اس بات کو بیان فرمایا ہے کہ اچھے مومن کا دل بھی ایمان اور محبت سے بھرا ہوا ہو تا ہے اور اس کا عمل بھی دوسروں کو فیض پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔حضور صلی الم نے فرمایاوہ مومن جو قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے وہ اس سنگترہ یا نارنگی کی طرح ہے جس کا مزہ بھی خوشگوار ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی خوشگوار ہوتی ہے۔اس کے بالمقابل وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا مگر اس کے دل میں ایمان ہے اور وہ قرآن پر عمل بھی کرتا ہے ایک چھوہارہ کی طرح ہے جس کا مزہ تو خوشگوار ہوتا ہے مگر اس میں خوشبو نہیں ہوتی۔اس لطیف تمثیل میں ہمارے نبی مصلی نیلم نے یہ توجہ دلائی ہے کہ بے شک وہ شخص بھی سچا مومن ہے جو دل میں ایمان رکھتا ہے اور قرآن پر عمل کرتا ہے مگر اس سے بہتر وہ مومن ہے جو دل میں ایمان بھی رکھتا ہے اور قرآن پر عمل بھی کرتا ہے مگر ساتھ ہی وہ قرآن پڑھ کر اس کی خوشبو اور مہک کو دنیا میں پھیلاتا ہے اور دنیا اس کے فیض سے مستفیض ہوتی ہے۔