365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 127 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 127

درس حدیث 127 درس حدیث نمبر 55 ا عَنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ اَنَساً مَا سَمِعْتَ نَبِيَّ اللَّهِ يا الله فِي النُّوْمِ؟ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ الله مَنْ أَكَلَ مِنْ هذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبْنَا أَوْلَا يُصَلِّيَنَّ مَعَنَا ( بخاری کتاب الاذان باب ماجاء في الثوم النئ والبصل الكراث حدیث نمبر 856) اسلام سے پہلے بعض مذاہب میں یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی کہ مذہب گندہ رہنا اور گندے کپڑے پہننا سکھاتا ہے۔یہ خیال بھی پیدا ہو تا رہا کہ جتنی جوئیں ایک آدمی کے سر اور کپڑوں میں ہوں گی اتنا ہی ثواب اس کو ملے گا۔بعض شدت پسند مسلمانوں میں بھی یہی خیال رہا ہے جو اسلام کی تعلیم کے بالکل خلاف ہے۔ہمار نبی صلی ای کم اپنی تمام تر سادگی کے باوجود نہایت صاف اور پاکیزہ رہتے تھے آپ کا بدن اور آپ کے بال اور آپ کا لباس حد درجہ پاکیزہ ہو تا اور صاف اور نفیس مگر سادہ ہو تا تھا۔آپ خوشبو کو حد درجہ پسند فرماتے اور حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں نے کوئی ریشم آپ کی ہتھیلی سے زیادہ ملائم نہیں چھوٹی اور میں نے کوئی مہک آپ کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی۔الله سة مسلم کتاب الفضائل باب طيب رائحة النبي يا الله۔۔۔حدیث نمبر 6053) جو حدیث آج پڑھی گئی ہے اس میں عبد العزیز بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت انس بن مالک سے پوچھا کہ آپ نے حضور صلی ا ظلم سے لہسن کے بارہ میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی الیم نے فرمایا کہ جو شخص یہ سبزی کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے اور نہ ہی ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔اب اس کے باوجود کہ حضور صلی یکم نماز با جماعت کے لئے حاضر ہونے کی حد درجہ تاکید فرماتے تھے۔آپ نے ان لوگوں کو جنہوں نے کچا لہسن کھایا ہو ، مجمع میں آنے اور نماز با جماعت میں حاضر ہونے سے منع فرمایا کیونکہ اس میں ایسی بو اٹھتی ہے جو دوسروں کو تکلیف دیتی ہے۔الله سة