365 دن (حصہ دوم) — Page 125
درس حدیث 125 درس حدیث نمبر 53 حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمر و جو انصار میں سے تھے اور ان کو بدر میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل تھا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا: مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ آخرِ فَاعِلِهِ (مسلم کتاب الامارۃ باب فضل اعانة الغازى فى سبيل الله بمركوب۔۔۔حديث نمبر 4899) ان مختصر سے الفاظ میں ہمارے نبی صلی ال یکم نے نیکی کرنے اور ثواب حاصل کرنے کا ایک عظیم الشان دروازہ کھول دیا ہے۔جب ہماری جماعت میں دربار خلافت سے کسی نیک کام کے لئے چندہ کی تحریک ہوتی ہے تو جو لوگ معمولی آمد رکھتے ہیں اور بہ مشکل گزارہ کر رہے ہوتے ہیں مگر ان کے دل میں اخلاص اور نیکی جوش مار ہی ہوتی ہے وہ تڑپتے اور بے چین ہو رہے ہوتے ہیں کہ کاش ان کو بھی مالی خوشحالی ہوتی اور وہ بھی بڑھ چڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیتے۔جب حضرت صاحب کی طرف سے اپنے بچوں کو وقف کرنے کی تحریک فرماتے ہیں تو وہ احمدی جن کے بچے نہ ہوں یہ خواہش کرتے ہیں کہ اللہ ان کو اولاد دیں اور وہ اس کو وقف کر کے اللہ کے حضور پیش کریں۔جو مختصر حدیث آج کے درس میں ہے اس کے مضمون پر عمل کر کے ایسے بے دست و پالوگ بھی خدمت میں حصہ لے سکتے ہیں ، حضور صلی ا یکم فرماتے ہیں: مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ کہ جو شخص کسی کو نیکی کی تحریک کرتا ہے کسی اچھے کام کی راہ دکھاتا ہے اس کے لئے وہی اجر ہے جو ان نیکی کے اچھے کام کرنے والے کو ملے گا۔اس لطیف نکتہ معرفت کے ذریعہ ہمارے نبی صلی الیم نے نیکی اور ثواب کا ایک وسیع میدان کھول دیا ہے اور معاشرہ میں بھی باہمی تعلقات کو اچھے رنگ میں پڑھانے کا رستہ کھول دیا ہے اور ان لوگوں کی تسکین کے سامان بھی فرما دیئے ہیں جو دوسروں کو نیک کام کرتے دیکھ کر اپنی محرومی پر دکھ محسوس کرتے ہیں۔ہر وہ شخص جو خود مجبوریوں کی وجہ سے نیک کام میں شمولیت نہیں کر سکتا وہ اپنی زبان و قلم سے دوسروں کو نیکی کی تحریک کر کے وہی نیکی کماسکتا ہے۔