365 دن (حصہ دوم) — Page 123
درس حدیث درس حدیث نمبر 51 123 اسلام کی تعلیم میں جہاں دل کی پاکیزگی اور نیکی کا حکم دیا گیا ہے وہاں ظاہری نیکی اور پاکیزگی پر بھی بہت زور ہے۔کیونکہ ظاہر کا اثر باطن پر پڑتا ہے اور باطن کا اثر ظاہر پر پڑتا ہے۔دونوں ایک دوسرے پر اچھائی یا برائی میں اثر ڈالتے ہیں۔حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الیم کو یہ فرماتے سنا لَتُسَوَّنَ صُفُوْفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ کہ تم لوگ اپنی صفیں ( نماز پڑھتے ہوئے) سیدھی بناؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے در میان مخالفت پیدا کر دے گا۔(بخاری کتاب الجماعة والامامۃ باب تسوية الصفوف عند الاقامة و بعدها حديث نمبر 717) الله سة اور مسلم میں ہے كَانَ رَسُولُ الله الله يُسَوّى صُفُوفَنَا کہ رسول الله صلى ا م ہماری (نماز کی صفیں سیدھی کروایا کرتے تھے حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ یہاں تک کہ گویا آپ ان سے تیر سیدھا کر رہے ہیں۔حَتَّى رَأَي أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا یہاں تک کہ آپ نے دیکھا کہ ہم یہ بات سمجھ گئے ہیں پھر آپ ایک دن باہر تشریف لائے اور ( نماز کے لئے) کھڑے ہوئے حَتَّى كَادَ يُكَبِرُ یہاں تک کہ قریب تھا کہ اقامت کہی جائے۔فَرَأَي رَجُلًا بَادِيًا صَدْرَهُ آپؐ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اپنا سینہ نکالا ہوا تھا فقال تو آپ نے فرمایا: عِبَادَ الله لَتُسَوَّنَ صُفُوْفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ که بخدا تو اپنی صفیں سیدھی کرو گے یا اللہ تمہارے چہروں کے در میان مخالفت ڈال دے گا۔(مسلم کتاب الصلوۃ باب تسوية الصفوف واقامتها وفضل الاول فأول منها۔۔۔حديث نمبر 979) اس حدیث میں یہ توجہ دلائی گئی ہے کہ ظاہر کا دل پر اور دل کا ظاہر پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور ظاہر کا ٹیڑھا پن اور غلط روش تعلقات کی غلط روش کا باعث ہو سکتے ہیں۔نماز خدا کا حکم ہے جو ہمارے نبی صلی الی ایم کے واسطے سے ہم کو ملا اور صحیح نماز وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ ہم نے ہمیں سکھائی اس لئے ہمارا فرض ہے کہ نماز اسی طرح ادا کریں جس طرح ہمیں سکھائی گئی ہے۔