365 دن (حصہ دوم) — Page 96
درس القرآن 96 درس القرآن نمبر 147 وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ حضرت مصلح موعود اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔(البقرة:207) “ فرماتا ہے جب اُسے کہا جائے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔تم تو دو کوڑی کے بھی آدمی نہیں تھے تمہیں تو جو کچھ ملا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے احسان کی وجہ سے ملا ہے تو اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالِاتم اُسے اپنی جھوٹی عزت کی پیچ گناہوں پر اور زیادہ دلیر کرتی ہے۔اس کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں یہ بھی کہ اس کے پہلے گناہوں اور شامت اعمال کی وجہ سے ہتک عزت کا جنون اس کے سر پر سوار ہو جاتا ہے اور اسے ہدایت سے اور زیادہ دور پھینک دیتا ہے۔اور یہ بھی کہ اپنی عزت کی بچ اُسے گناہوں کے لئے پکڑ لیتی ہے یعنی اس سے اور زیادہ گناہوں کا ار تکاب شروع کرادیتی ہے۔فرماتا ہے یہاں ممکن ہے تم لوگوں کو فریب دے لو لیکن آخر جہنم تمہارا ٹھکانہ ہے وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ اور وہ بہت بُر اٹھکانا ہے۔جہنم بے شک اگلے جہان میں ہے لیکن ایک جہنم ایسے انسانوں کے لئے اس جہان میں بھی پیدا کر دیا جاتا ہے جب شریف انسان مقابلہ میں کھڑے ہو جائیں تو انہیں ایسا جواب مل جاتا ہے کہ یہی دنیا ان کے لئے جہنم بن جاتی ہے افسوس ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ صرف اس لئے اپنی اصلاح نہیں کر سکتے کہ جب انہیں ان کی غلطی بتائی جائے اور کہا جائے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔تو اپنی ہتک عزت کے خیال سے وہ دیوانہ ہو کر بجائے نصیحت سے فائدہ اٹھانے کے ناصح کا مقابلہ کرنے لگ جاتے ہیں مگر اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ جس کسی میں کوئی غلطی یا نقص دیکھیے بازار میں کھڑے ہو کر اسے تنبیہ کرنا شروع کر دے۔سمجھانا ہمیشہ علیحدگی میں چاہیے اور سمجھانے والے کو اپنی حیثیت اور قابلیت بھی دیکھنی چاہیے کہ وہ جس شخص کو سمجھانا چاہتا ہے اسے سمجھانے کی اہلیت بھی رکھتا ہے یا نہیں۔تا کہ اس کا الٹا نتیجہ نہ نکلے غرض جہاں غلطی کرنے والوں کو برداشت کی طاقت اپنے