365 دن (حصہ دوم) — Page 94
درس القرآن 94 درس القرآن نمبر 146 وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَ يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (البقرة: 206) گزشتہ آیت میں ایسے آدمی کا ذکر تھا جو حقیقی معنوں میں ذکر الہی کرنے کے بجائے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اپنی عظمت قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس آیت میں یہ مضمون ہے کہ ایسے لوگ جب اپنے پراپیگینڈا کے ذریعہ طاقت و حکومت حاصل کر لیتے ہیں تو جو ان کا حال ہوتا ہے اس کا نقشہ حضرت مصلح موعودؓ اس طرح بیان فرماتے ہیں:۔“فرمایا ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں بادشاہت مل جاتی ہے یعنی وہ خدا تعالیٰ کی پیدا کر دہ طاقتوں سے کام لے کر حکومت پر قابض ہو جاتے ہیں تو بجائے اس کے کہ رعایا اور ملک کی خدمت کریں، بجائے اس کے کہ لوگوں کے دلوں میں سکینت اور اطمینان پیدا کریں وہ ایسی تدابیر اختیار کرنی شروع کر دیتے ہیں جن سے قومیں قوموں سے ، قبیلے قبیلوں سے اور ایک مذہب کے ماننے والے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے لڑنے جھگڑنے لگ جاتے ہیں اور ملک میں طوائف الملوکی کی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح وہ ایسے طریق اختیار کرتے ہیں جن سے ملک کی تمدنی اور اخلاقی حالت تباہ ہو جاتی ہے اور آئندہ نسلیں بریکار ہو جاتی ہیں۔حرث کے لغوی معنے تو کھیتی کے ہیں مگر یہاں حرث کا لفظ استعارہ وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ جتنے ذرائع ملک کی تمدنی حالت کو بہتر بنانے والے ہوتے ہیں ان ذرائع کو اختیار کرنے کی بجائے وہ ایسے قوانین بناتے ہیں جن سے تمدن تباہ ہو۔اقتصاد بر باد ہو۔مالی حالت میں ترقی نہ ہو۔اس طرح وہ نسل انسانی کی ترقی پر تبر رکھ دیتے ہیں۔اور ایسے قوانین بناتے ہیں جن سے آئندہ پیدا ہونے والی نسلیں اپنی طاقتوں کو کھو بیٹھتی ہیں اور ایسی تعلیمات جن کو سیکھ کر وہ ترقی کر سکتی ہیں ان سے محروم رہ جاتی ہیں۔پھر فرماتا ہے کہ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ اللہ تعالیٰ فساد پسند نہیں کرتا۔اس لئے ایسے