365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 90 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 90

درس القرآن 90 فرماتا ہے فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَ مَالَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ كه بعض لوگ ایسے ہیں جو خدا سے صرف دنیا ہی مانگتے ہیں ان کا مقصد دنیا ہی ہوتا ہے اور ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں مگر فرماتا ہے ایک گروہ وہ بھی ہے جو کہتا ہے رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ حضرت مصلح موعود اس کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔یعنی الہی ہمیں دنیا میں بھی عزت بخش اور آخرت میں بھی ہمارے مقام کو بلند کر۔اگر ہمیں دنیا ملے تو ہم اسے اپنی ذات کے لئے استعمال نہ کریں بلکہ تیرے دین کی شوکت ظاہر کرنے کیلئے استعمال کریں اور تیری رضا اور خوشنودی کے لئے اُسے صرف کریں۔اگر ایسا ہو تو پھر انسان کو دنیا میں بھی عزت ملتی ہے۔اور خدا تعالیٰ کے حضور بھی اس کا مر تبہ بڑھتا ہے۔یہ دُعا جو اسلام نے ہمیں سکھائی ہے بظاہر بہت چھوٹی سی دعا ہے لیکن ہر قسم کی انسانی ضرورتوں پر حاوی ہے۔" ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 445 مطبوعہ ربوہ) فرماتے ہیں:۔پس یہ ایک جامع دُعا ہے جو اسلام نے سکھائی ہے اور جسے رسول کریم صلی علی کی بڑی کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔" ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 446 مطبوعہ ربوہ) اس مضمون کو پورا کرتے ہوئے آخر میں فرمایا أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے ان کی نیک کمائی کے سبب سے ثواب کا ایک بہت بڑا حصہ مقدر ہے واللہ سَرِيعُ الْحِسَابِ اور اللہ بہت جلد حساب چکا دیتا ہے۔(البقرة: 203)